اسلام آباد(عامر اقبال ہاشمی )قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر کی 8 مخصوص نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی آج 20اگست بروز جمعرات کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 7امیدواروں کو میدان میں اتار دیا گیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے ایک ٹکٹ جاری کردیا ہے جبکہ دوسری نشست پر قیادت تقسیم ہو گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق8مخصوص نشستوں کیلئے کاغذات نامزدگی آج جمعرات کو جمع ہوں گے اور آج ہی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائیگی جبکہ پولنگ24اگست بروز پیر کو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستیں: ن لیگ کے امیدوار فائنل!
مخصوص نشستوں میں 5 خواتین، ایک علماء و مشائخ، ایک تارکین وطن جبکہ ایک نشست ٹیکنوکریٹس کیلئے مختص ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار 20 اگست کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائیں گے، اسی روز کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد اُمیدواروں کی فہرست بھی جاری کی جائے گی۔
مسلم لیگ(ن) کی جانب سے خواتین کی نشستوں کیلئے4اور مردوں کی 3نشستوں کیلئے 3امیداروں کو میدان میں اتارا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواتین کی نشستوں خواتین ونگ کی صدر مریم کشمیری،مریم ادریس،سحرش قمراور رفعت عابد کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے ۔
علماء و مشائخ کیلئے پیر مظہر سعید،تارکین وطن کیلئے عبدالرحمان آرائیں جبکہ ٹیکنوکریٹ کیلئے بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کیا گیا ہے۔
پی پی قیادت کی جانب سے ایک سیٹ کیلئے سابق صدر ریاست کی صاحبزادی فرزانہ یعقوب کے نام پر اتفاق کیا گیا ہےجبکہ دوسری نشست پر شگفتہ نورین کاظمی اور زوبیہ خورشید کے ناموں پر قیادت تقسیم ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور زوبیہ خورشید کے حمایتی ہیں جبکہ صدر پیپلزپارٹی چوہدری یاسین ودیگر ارکان کا موقف ہے ایک ہی ڈویژن میں دونوں نشستیں نہ دی جائیں۔
رات گئے تک پی پی قیادت کوئی فیصلہ نہیں کرسکی تھی ، سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کئے جا رہے تھے۔ذرائع کے مطابق پی پی قیادت کی جانب سے آج حتمی فیصلے کا امکان ہے۔
دوسری طرف خواتین کی ایک نشست پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان “ٹائی” پڑنے کا مکان ہے، دونوں پارٹیوں کی ایک ایک امیدوارہ کو پانچ پانچ ووٹ پڑنے سے ایک نشست کا معاملہ ٹائی ہوسکتاہے
آزادکشمیر کے نومنتخب ارکان کی تعداد 38 ہے جبکہ پانچ نشستوں کیلئے ہر خاتون امیدوار کو 7 ووٹ ملیں تو وہ رکن اسمبلی منتخب ہوسکتی ہے اس طرح مسلم لیگ ن 26 ارکان کے ساتھ 3 مخصوص نشستوں پر 21 ووٹ دے کر انھیں کامیاب کرے گی جبکہ چوتھی امیدوارہ کیلئے مسلم لیگ ن کے 5 ارکان ووٹ کاسٹ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی نے دھاندلی کا جھوٹا الزام لگایا،نئی قیادت ریاستی ترقی کیلئے دن رات ایک کردیں،مریم نواز
اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے 12ارکان اسمبلی بھی ایک امیدوار کو 7ووٹ دیں گے جبکہ دوسری امیدوارہ کو 5 ووٹ دیں گے اس طرح ایک خواتین کی نشست پر ٹائی پڑ جائے گی۔
مردوں کی تینوں نشستیں مسلم لیگ(ن) اسمبلی میں اکثریت ہونے پر آسانی سے حاصل کر لےگی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت سے تعاون معطل کرنے کا بھی اعلان کیا ہےجس پر پی پی کو راضی کرنے کیلئے ایک نشست پی پی کو بھی دی جاسکتی ہے۔




