آزاد کشمیر ہائیکورٹ: تیرھویں ترمیم سمیت اہم آئینی درخواستوں کی سماعت 9 ستمبر مقرر

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں صدارتی انتخابات میں مبینہ تاخیر، اسپیکر اسمبلی کے اختیارات، تیرھویں آئینی ترمیم، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن اور دیگر اہم آئینی معاملات سے متعلق زیرِ سماعت مختلف آئینی رِٹ پٹیشنز کی سماعت بینچ مکمل نہ ہونے کے باعث نہ ہو سکی۔ عدالت نے تمام متعلقہ درخواستوں کی آئندہ سماعت کیلئے 9 ستمبر 2026ء کی تاریخ مقرر کر دی۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ آئینی مقدمات کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے، تاہم بینچ مکمل نہ ہونے کے باعث مقررہ تاریخ پر کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ عدالت نے زیرِ سماعت تمام متعلقہ آئینی درخواستوں کو آئندہ سماعت کے لیے 9 ستمبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور تعلیمی بورڈ میٹرک نتائج: لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ رزلٹ دینے میں ناکام

ان مقدمات میں آزاد جموں و کشمیر کے آئینی و سیاسی نظام سے متعلق متعدد اہم معاملات عدالت کے سامنے زیرِ غور ہیں۔ ان میں صدارتی انتخابات میں تاخیر، قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کے اختیارات، تیرھویں آئینی ترمیم کی آئینی حیثیت و دیگر متعلقہ امور، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن اور حکومت و اسمبلی سے متعلق مختلف آئینی سوالات شامل ہیں۔

آئینی رِٹ پٹیشنز میں سید علی عبداللہ بنام چوہدری لطیف اکبر، اسپیکر اسمبلی، راجہ عبد الحمید خان بنام آزاد حکومت، حنیف ملک بنام آزاد حکومت، راجہ ذوالقرنین عابد وغیرہ بنام اسپیکر اسمبلی، پاکستان تحریک انصاف بنام الیکشن کمیشن اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس بنام آزاد حکومت شامل ہیں۔

مذکورہ درخواستوں کی سماعت ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس سید شاہد بہار، جسٹس سردار محمد اعجاز خان اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل لارجر بینچ کر رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کی پیشگوئی

تیرہویں آئینی ترمیم سمیت ان درخواستوں کی اہمیت اس اعتبار سے بھی نمایاں ہے کہ ان میں آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے، ریاستی اداروں کے اختیارات، انتخابی عمل اور سیاسی جماعتوں سے متعلق بنیادی قانونی و آئینی امور زیرِ بحث ہیں۔ آئندہ سماعت پر عدالت ان درخواستوں میں اٹھائے گئے قانونی نکات اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔

عدالت کی جانب سے نئی تاریخ مقرر کیے جانے کے بعد اب تمام متعلقہ فریقین کی نظریں 9 ستمبر 2026ء کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں ان اہم آئینی معاملات پر کارروائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔