آنکھوں پر چشمہ ضروری:27 سال بعدآج نایاب سورج گرہن دیکھا جائےگا

لندن(کشمیر ڈیجیٹل) برطانیہ اور آئرلینڈ سمیت یورپ کے مختلف علاقوں میں اس دہائی کا نمایاں ترین جزوی سورج گرہن دیکھا جائے گا۔

جبکہ پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سورج گرہین رات کے وقت ہوگا جو نظر نہیں آئے گا۔

سورج گرہن کے دوران مختلف علاقوں میں سورج کا 91 سے 93 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مکمل سورج گرہن کا راستہ برطانیہ کے شمالی حصے سے گزرے گا، تاہم ملک کے بیشتر علاقوں میں گہرا جزوی سورج گرہن دکھائی دے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکہ اور ایران کا 60روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق، ترک میڈیا

لندن، مانچسٹر اور گلاسگو میں سورج کا تقریباً 91 فیصد حصہ چھپ جائے گا، جبکہ کارڈف میں یہ شرح تقریباً 93 فیصد اور بیلفاسٹ میں 93 فیصد سے کچھ زیادہ ہو گی۔

آئرلینڈ کے کاؤنٹی کیری میں گریٹ اسکیلیگ کے مقام پر گرہن سب سے زیادہ نمایاں ہو گا، جہاں سورج کا تقریباً 98 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔

یہ برطانیہ میں 1999 کے بعد سب سے زیادہ ڈرامائی سورج گرہن ہو گا۔سورج گرہن برطانوی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے سے 8 بجے تک جاری رہے گا

جبکہ مختلف علاقوں میں زیادہ سے زیادہ گرہن تقریباً 7 بج کر 5 منٹ سے 7 بج کر 13 منٹ کے درمیان ہو گا۔ اس دوران سورج مغرب، شمال مغرب کی سمت افق کے قریب ہلال کی شکل میں دکھائی دے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا 79واں یومِ آزادی: آزاد کشمیر میں اعلیٰ عدالتوں کی عمارات قومی پرچموں سے سج گئیں

برطانیہ میں مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے البتہ طویل انتظار کرنا ہو گا۔ وہاں اگلا مکمل سورج گرہن 23 ستمبر 2090 کو متوقع ہے۔

واضح رہے کہ جزوی سورج گرہن کے دوران سورج کو براہ راست آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس لیے گرہن کے مشاہدے کے دوران مخصوص حفاظتی چشموں کا استعمال ضروری ہے۔