اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے حالیہ عام انتخابات کو دھاندلی زدہ اور پرتشدد قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تیسرے مرحلے کے باقی 2اضلاع اور پونچھ کے بقیہ 7حلقوں میں انتخابات فوری طور پر مکمل کئے جائیں تاکہ قانون ساز اسمبلی مکمل طور پر وجود میں آ سکے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی ویمن ونگ کی صدر اور پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر امور کی انچارج محترمہ فریال تالپور کی زیر صدارت زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات، پارٹی کی کارکردگی اور باقی حلقوں میں انتخابی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم آزادکشمیر کے حلقہ کا انتخابی نتیجہ تاخیر کا شکار،پولنگ بیگز مظفرآباد طلب
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری محمد ریاض، قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر، صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر چوہدری محمد یاسین، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد یعقوب خان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب شریک ہوئے۔
نومنتخب اراکین قانون ساز اسمبلی میاں عبدالوحید، سید بازل نقوی، عبدالماجد خان، ظفر ملک، چوہدری یاسر سلطان، دیوان چغتائی، سردار ضیاالقمر، مختار عباسی اور عامر غفار لون سمیت انتخابات 2026 کے لیے پارٹی کے نامزد امیدواروں نے شرکت کی۔ مرکزی سیکریٹری رابطہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر عامر ذیشان جرال بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے شرکاء نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ عام انتخابات کو دھاندلی زدہ اور پُرتشدد قرار دیتے ہوئے انہیں آزاد کشمیر کی جمہوری اور پارلیمانی تاریخ کے بدترین انتخابات میں شمار کیا۔
شرکاء نے آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کے کردار پر شدید تنقید کی۔
اجلاس میں انتخابی عمل کے دوران انٹرنیٹ کی بندش، مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ میٹریل اور عملے کی عدم موجودگی اور سکیورٹی کے مبینہ ناقص انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
شرکاء نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی بھرپور معاونت اور کوششوں کو سراہا جبکہ پارٹی کے دیگر مرکزی رہنماؤں کی رہنمائی پر بھی شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں مرحلہ وار انتخابات کے انعقاد کو جمہوری نظام کے منافی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا کہ تیسرے مرحلے کے باقی دو اضلاع اور پونچھ کے بقیہ سات حلقوں میں انتخابی عمل فوری مکمل کیا جائے تاکہ قانون ساز اسمبلی مکمل طور پر معرض وجود میں آ سکے اور جمہوری و پارلیمانی نظام کی آئینی حیثیت بحال ہو۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز سے فاتح کیانی کی اہم ملاقات،کیا آزادکشمیر حکومت میں ایڈجسٹ کیا جائیگا؟
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فریال تالپور نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور پارٹی نے موجودہ مشکل انتخابی حالات کے باوجود عوام کی بھرپور حمایت سے کامیابی حاصل کی ہے۔
پی پی کا حکومت سازی کیخلاف عدلیہ سے رجوع کا فیصلہ، نجی ٹی وی کا دعویٰ
نجی ٹی وی’’اے آر وائی ‘‘ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کے خلاف عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت سازی کا عمل روکنے کے لیے پی پی اراکین نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے اور حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قانونی ٹیم کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کوٹلی کے 3 اور مظفرآباد کے 2 حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ارکان کا موقف تھا کہ ان دو اضلاع میں انتخابات مکمل کیے بغیر آزاد کشمیر میں حکومت سازی آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں۔




