مکہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسی کا معترف

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) بھارتی میڈیا نے پاک،سعودیہ ،ترکیہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسی کا اعتراف کرلیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دفاعی انضمام، مشترکہ فوجی مشقیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتی ہے۔

بھارتی میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ دفاعی پیداوار سے پاکستان کی جنگی تیاری مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کیلئے ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی مسلمانوں کی وفاداری مشکوک ، قائداعظم محمد علی جناح کا فرمان سچ ثابت

سعودی عرب کی مالی معاونت اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پاکستان کے اہم اسٹریٹجک مفادات میں شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک سعودی ترکیہ دفاعی تعاون پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو نئی سمت دے سکتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔

بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق پاک سعودی ترکیہ دفاعی تعاون کا بڑھتا ہوا دائرہ بھارت کیلئے نیا چیلنج بن چکا ہے۔

دوسری جانب مسلم ممالک کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدہ کا بھرپور خیرمقدم، خطے کے نئے سٹریٹجک پالیسی کے مطابق اہم پیشرفت قراردیدیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت سمیت مختلف ممالک پر100 فیصد ٹیرف ،امریکی سینیٹ میں بل منظور

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔

مختلف ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے معاہدے کو علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شریک ہوئے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اجتماعی دفاع پر مبنی یہ معاہدہ سیکیورٹی، دفاعی تعاون اور دفاعی صنعت کے مشترکہ منصوبوں کو مزید مضبوط کرے گا۔