انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ : پاکستانی ٹیم نے ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے جیت لئے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کی سرپرستی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کی جانب سے منتخب اور تربیت یافتہ ٹیم نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں 2 سے 8 اگست 2026ء تک منعقد ہونے والے تیسرے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ (INSO-2026) میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے حاصل کیے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی معاونت سے منعقد ہونے والے اس مقابلے میں 19 ممالک سے تقریباً 120 طلبہ اور ماہرین نے شرکت کی، جن میں چین، جاپان، روس، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور مملکتِ سعودی عرب شامل تھے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طالب علم محمد علی نے پاکستان کیلئے طلائی تمغہ حاصل کیا جبکہ ایف جی سر سید کالج، دی مال، راولپنڈی کے محمد عثمان اور نکسر کالج، کراچی کی سیرت فاطمہ بھٹی نے چاندی کے تمغے حاصل کئے۔

سندر STEM اسکول، لاہور کے سید شجاع حیدر نے بھی اس بین الاقوامی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔طلبہ کا انتخاب پاکستان نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ (PANSO) کے ذریعے کیا گیا جو PAECکا ایک اہم اقدام ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کا کینور مظفرآباد کینسر ہسپتال میں جلد اپنا کام شروع کرنے کا اعلان

جس کا مقصد نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی نشاندہی، ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں شرکت کیلئے تیار کرناہے۔ انتخاب کا عمل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، PAEC ہیڈکوارٹرز، اور PIEAS نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔

انتخاب کے بعد طلبہ نے PIEAS کے ممتاز اساتذہ اور ماہرین کی زیرِ نگرانی خصوصی تربیت اور رہنمائی حاصل کی، جس کے ذریعے انہیں بین الاقوامی اولمپیاڈ کے علمی اور مسابقتی تقاضوں کے لیے مؤثر طور پر تیار کیا گیا۔

انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ ثانوی سطح کے طلبہ کے لیے جوہری سائنس کے شعبے میں ایک ممتاز بین الاقوامی مقابلہ ہے۔ اس کا مقصد سائنسی مہارت، علم کے تبادلے اور جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یہ اولمپیاڈ نوجوان طلبہ کو جوہری سائنس اور اس کے پُرامن استعمال کے بارے میں اپنی علمی صلاحیت اور فہم کے اظہار کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ٹیم کی یہ شاندار کامیابی نوجوان سائنسی صلاحیتوں کے فروغ اور طلبہ کو جوہری سائنس و ٹیکنالوجی میں تعلیم اور پیشہ ورانہ کیریئر اختیار کرنے کی ترغیب دینے کیلئے پاکستان کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر علی رضا انور نے بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج کا افتتاح کر دیا

PANSO جیسے اقدامات اور PIEAS جیسے اداروں کے ذریعے PAEC باصلاحیت طلبہ کو منظم تربیت، رہنمائی اور بین الاقوامی سائنسی پلیٹ فارمز پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان کو 2027ء میں ہونے والے چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، PAEC کے ڈاکٹر محمد مقصود اور PIEAS کے ڈاکٹر سجاد طاہر نے پاکستان کو آئندہ اولمپیاڈ کے میزبان ملک کے طور پر منتخب کئے جانے کے اعزازمیں یادگاری سوونئیر پیش کیا گیا۔

پاکستان کو میزبانی کا اعزاز ملنا جوہری سائنس کی تعلیم کے فروغ اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کے استحکام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔

جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے جوہری توانائی، صحت، زراعت، ماحولیاتی تحفظ، صنعت اور تعلیم سمیت متعدد پُرامن شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمالات ہیں، جو پائیدار ترقی اور انسانی بہبود میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔i

سائنس دانوں اور انجینئرز کی اگلی نسل کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک کے سائنسی انسانی وسائل کو مضبوط بنانے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں اعلیٰ معیار اور مہارت کے فروغ کیلئے پُرعزم تاکہ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔