مظفرآباد: چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات اور چیلنجز کے پیشِ نظر پہلے ضلع باغ اور حویلی کی چار نشستوں پر انتخابی عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اضلاع کے لیے سیکیورٹی فورسز پہنچ چکی ہیں جبکہ پولنگ مٹیریل کی ترسیل پاک فوج کی دیکھ بھال اور نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔
انہوں نے باغ اور حویلی کے عوام سے خاص اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ 10 اگست کو اپنے ووٹ کے ذریعے جمہوریت اور تبدیلی کا عمل مکمل کریں۔ ووٹ عوام کا جمہوری حق اور مذہبی فریضہ ہے، لہذا اسے امانت سمجھتے ہوئے صحیح حق دار تک پہنچایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر عام انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ: راولاکوٹ اور سدھنوتی میں پولنگ ملتوی
راولاکوٹ اور سدھنوتی میں انتخابات کا ممکنہ شیڈول:
چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن اگلے سات روز کے اندر راولاکوٹ اور سدھنوتی اضلاع کے لیے نئی انتخابی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ معطل شدہ حلقوں میں امیدواروں کو انتخابی مہم کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اگلے تین سے چار دنوں میں جاری دھرنا ختم ہو جاتا ہے یا سیکیورٹی کا کوئی پائیدار حل نکل آتا ہے تو 20 یا 21 اگست تک ان اضلاع میں بھی پولنگ کروانا ممکن ہو سکے گا۔
ایوان کی آئینی و اخلاقی حیثیت اور نتائج کا طریقہ کار:
جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کامیاب اراکین کے حلف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر نو منتخب اراکین کے حلف اٹھانے میں کوئی مانع نہیں، تاہم جب تک پونچھ اور سدھنوتی میں انتخابی عمل مکمل نہیں ہوتا، اخلاقی طور پر ایوان کی مکمل تشکیل تک حلف نہ اٹھانے کا جواز بنتا ہے۔ ایوان کے مکمل ہوتے ہی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے ساتھ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان (وزیراعظم) کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
انہوں نے نتائج کی شفافیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کا رزلٹ ریٹرننگ افسر خود جمع کرتا ہے، لیکن اس سے قبل تمام پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی شفاف گنتی کی جاتی ہے۔
انٹرنیٹ کی بحالی، حساس پولنگ اسٹیشنز اور الزامات کا جواب:
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق سیکیورٹی پلان کے تحت انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے لیے 8 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ مزید برآں، الیکشن کمیشن کی یہ کوشش ہے کہ 9 اور 10 اگست کو اضلاع باغ اور حویلی میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جا سکے تاکہ انتخابی نتائج کی بروقت جمع آوری اور ترسیل میں آسانی رہے۔
سیاسی رہنماؤں کے الزامات پر ردِعمل دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اپنی آئینی حدود ہیں، اس لیے وہ سیاسی بیان بازی کا جواب نہیں دے سکتے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تمام انتخابی مراحل مکمل ہونے کے بعد حقائق مکمل طور پر عوام کے سامنے لائے جائیں گے کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں، اور اگر ہوئی تو اس میں کون ملوث تھا۔




