پولنگ

آزاد کشمیر عام انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ: راولاکوٹ اور سدھنوتی میں پولنگ ملتوی

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کے باعث 2026 کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے میں راولاکوٹ اور سدھنوتی میں 10 اگست کو ہونے والی پولنگ ملتوی کر دی ہے۔ تاہم، اضلاع باغ اور حویلی میں انتخابی عمل طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکرٹری داخلہ آزاد کشمیر کی رپورٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بریفنگز اور سیاسی جماعتوں کی تحریری درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق راولاکوٹ اور سدھنوتی میں امن و امان کی بگاڑ اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے باعث ووٹرز اور الیکشن عملے کی سلامتی کو شدید خطرات درپیش تھے۔

متاثرہ حلقے اور امیدوار کی وفات کے باعث التوا:

تفصیلی مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر اضلاع راولاکوٹ اور سدھنوتی کے تمام 6 انتخابی حلقوں میں پولنگ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ ضلع سدھنوتی کے حلقہ بلوچ میں ایک امیدوار کی قدرتی موت کے باعث بھی پولنگ پہلے ہی ملتوی کی جا چکی تھی۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضلع باغ کے 3 اور ضلع حویلی کے 1 انتخابی حلقے میں ووٹنگ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان کو جھٹکا ،الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان پارٹی کو ڈی لسٹ کردیا

الیکشن کمیشن کے مطابق ضلع باغ اور حویلی کے تمام حلقوں میں انتخابی انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان اضلاع میں پریذائیڈنگ افسران، پولنگ عملے کی تعیناتی، انتخابی سامان کی فراہمی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی یقینی بنا دی گئی ہے۔ ووٹرز کی آسانی اور جمہوری حق کا پرامن استعمال یقینی بنانے کے لیے آزاد کشمیر حکومت نے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 10 اگست کو اضلاع باغ اور حویلی میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کا موقف اور آئینی ذمہ داری:

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے اجلاس کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری پرامن، شفاف اور بلا خوف و خطر انتخابات کروانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق ہر فیصلہ کرنے کا پابند ہے اور جہاں کہیں بھی حالات انتخابی شفافیت یا ووٹرز اور الیکشن عملے کی حفاظت کے لیے خطرہ بنیں گے، کمیشن وہاں مناسب کارروائی کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی کہ پولنگ کے التوا کا فیصلہ کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ کمیشن نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ محض انتظامی اور سیکیورٹی رپورٹس کی روشنی میں نہیں بلکہ متعدد سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ان تحریری اپیلوں پر بھی کیا گیا ہے جن میں انہوں نے سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر مہم چلانے، ووٹر ٹرن آؤٹ اور پرامن پولنگ پر منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

نئی تاریخ کا اعلان اور انتخابی مراحل:

الیکشن حکام کے مطابق ملتوی شدہ حلقوں میں حالات بہتر ہونے کے بعد محکمہ داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کی مشاورت سے پولنگ کے نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں عام انتخابات مرحلہ وار منعقد ہو رہے ہیں، جہاں پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تمام حلقوں میں پولنگ مکمل کی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے حلقوں میں انتخاب مکمل ہوا تھا اور اب راولاکوٹ و سدھنوتی میں التوا کے باعث سیکیورٹی حالات بہتر ہوتے ہی آخری مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ن لیگ کا 10سیٹیں جیب میں رکھنے کا بیان شفاف الیکشن پر سوالیہ نشان، بلاول بھٹو

سیاسی مبصرین کے مطابق آخری مرحلے میں اس غیر متوقع التوا سے انتخابات کی حتمی تکمیل اور مظفرآباد میں اگلی حکومت کی تشکیل کا عمل وقتی طور پر رک گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور عوام سے پرامن ماحول قائم رکھنے اور افواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے۔