اسلام آباد :پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل سیدنیئر حسین بخاری نے قائمقام صدر آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر ،پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین اور ندیم افضل چن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزادکشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے ۔
پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری یاسین نےا لزام لگایا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے 2016میں بھی دھاندلی سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پونچھ سے 5 نشستیں جیتیں گے،مہاجرین نشستوں پر پیپلزپارٹی نے ایکشن کمیٹی کو استعمال کیا،طارق فاروق
سیدنیئر حسین بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن پونچھ میں ہونے والے انتخابات کو بھی دھاندلی کے ذریعے جیتنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی انہیں ایسا نہیں کرنے دیگی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے صاف انداز میں مطالبہ کیا کہ جو عمل میرپور ڈویژن میں پیپلز پارٹی کی نشستیں چھین کر اپنایا گیا اسے مظفرآباد میں دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،تشدد اور غنڈا گردی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کی نشستیں چھینی گئیں
چوہدری لطیف اکبر جو ریاست کے قائم مقام صدر ہیں ان پر حملہ کیا گیا جس ریاست میں صدر محفوظ نہ ہو وہاں اندازہ کریں کہ کون محفوظ رہ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال پیدا کی گئی اور بدترین دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ نون نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ انہوں نے ایسا الیکشن اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے انہوں نے کہا کہ کئی پولنگ سٹیشنوں پر 97 پرسنٹ 95 پرسنٹ 94 پرسنٹ اور 91 پرسنٹ ووٹ پول ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جہاں لوگ پاکستان سے پیار کرتے ہیں وہاں دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیتنا بہت افسوسناک بات ہے اس سے سرحد پار منفی پیغام جائے گا، الیکشن جیتنا یا ہارنا کوئی مسئلہ نہیں لیکن وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پنجاب کی دس نشستیں ہماری ہیں جہاں سے پری پول دھاندلی کا اغاز ہو گیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی نون لیگ کی حکومت آئی انہوں نے دھونس، دھاندلی تشدد اور مار دھاڑ کا رویہ اپنایا کوٹلی میں ہمارے ایک کارکن کو شہید کیا گیا۔
مظفرآباد میرے حلقے میں ایک کارکن کو شہید کیا گیا مجھے اور میرے کارکنوں کو پولنگ اسٹیشن پر جانے سے روک دیا گیا یکطرفہ ٹھپے لگائے گئے اور دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ نون نے انتخابات جیتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پولنگ اسٹیشن پر 97 فیصد ووٹ پول ہوئے یہ دنیا کی تاریخ کا پہلا الیکشن تھا جہاں 97 پرسنٹ ووٹ پول کیے گئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کا یہ عالم تھا کہ ہر پولنگ سٹیشن پر صرف ایک پولیس والا تھا اور اس کے ہاتھ میں صرف ایک ڈنڈا تھا
چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کی مد میں پانچ ارب روپے لیے ہیں سوال یہ ہے کہ وہ پانچ ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے اتنی بڑی رقم کے باوجود اگر الیکشن کمیشن لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوا تو ان سے یہ رقم واپس لی جانی چاہیے
انہوں نے کہا کہ میں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا تھا کہ لوگوں کی جانوں کا تحفظ اپ کی اولین ذمہ داری ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کے بقول کہ ہم فوج کی نگرانی میں انتخابات کروائیں گے نہ تو فوج تھی نہ رینجر نہ پاکستان کی پولیس کوئی بھی میرے حلقے میں کم از کم موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ مظفرآباد اپر چھتر میں ایک پریزائیڈنگ آفیسر پکڑا گیا جو جعلی ٹھپے لگا رہا تھا ایل اے 27 میں کئی پولنگ اسٹیشنوں پر 12 بجے کے بعد ووٹ ووٹنگ شروع ہوئی لیکن وہاں بھی 90 پرسنٹ سے زیادہ ووٹ پول ہوئے اور یہ عمل صرف پانچ گھنٹے کے اندر انجام پایا۔
پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ میرپور میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کی نشستیں چھینی گئیں اور اس بدترین دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ نون کی حکومت کو مسلط کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی نے ہنگامہ آرائی کروائی، انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی: رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے اس سے مقبوضہ کشمیر میں بہت منفی پیغام گیا ہے ایسی پولنگ کو اور ایسے انتخابات کو ہم نہیں مانتے ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابات کو کلعدم قرار دیا جائے اور نئے انتخابات کروائے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو 2016 میں بھی لا کر دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ نون نے حکومت بنائی اور 2026 میں بھی موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ذریعے دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ نون حکومت بنانے جا رہی ہے ۔
یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے ہی وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی سفارش پر ہی وزیراعظم شہبازشریف نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) مصطفی مغل کی تقرری کی منظوری دی تھی۔




