مظفرآباد: صدر ریاست آزاد کشمیر ،پیپلزپارٹی کے ایل اے 31 کھاوڑہ سے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ10انتخابات لڑے ہیں کبھی نہیں دیکھا کہ اس طرح دھاندلی، لوگوں پر تشدد اور قتل عام کیا گیا ہو،الیکشن کمیشن45پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کراوئے ورنہ سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ وفاقی وزراء کی ہدایات پر بدترین دھاندلی کرائی گئی، لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں، میں نے کبھی ایم ایل اے بننے کے لیے سیاست نہیں کی، ہمیشہ لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔
یہ بھی پڑھیں:ن لیگ نے روش تبدیل نہیں کی،لطیف اکبر پر حملہ، ایک کارکن شہید ہوگیا، قمرزمان کائرہ
ہم تو شروع دن سے حقِ رائے دہی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا، مجھ پر حملہ کیا گیا، سکیورٹی اسکواڈ سے اسلحہ چھیننے کی کوشش ہوئی، ڈی ایس پی موقع پر حملے کے گواہ ہیں، واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا گولیوں کی گونج میں سرعام ٹھپے لگائے گئے، پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے؟ جہاں آزادانہ پولنگ ہوئی اور جہاں دھاندلی ہوئی، دونوں کے نتائج میں واضح فرق ہے۔
ایک یونین کونسل میں پانچ پولنگ اسٹیشن جیتنے کے باوجود مخالف امیدوار کو 1500 ووٹ کی برتری دے دی گئی، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر رات ڈھائی بجے پولنگ 31 فیصد تھی، پھر صبح یہ 97 فیصد کیسے ہو گئی۔؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے کسی ملک میں 97 فیصد پولنگ نہیں ہوتی، یہاں ٹھپے لگا کر تقریباً 100 فیصد پولنگ دکھائی گئی،ایک ہی یونین کونسل میں کہیں 30 فیصد اور کہیں 97 فیصد پولنگ کیسے ممکن ہے؟
چوہدری لطیف کا کہنا تھا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ایک ہی امیدوار کے حق میں تمام ووٹ ڈالے گئے، مخالف امیدوار کو ایک بھی ووٹ نہیں ملا،یو سی جھنڈگراں میں ایک پولنگ اسٹیشن پر 92 فیصد جبکہ ساتھ والے پولنگ اسٹیشن پر صرف 30 فیصد پولنگ ہوئی۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے حق میں 19 ہزار یکطرفہ ووٹ کاسٹ کیے گئے،یونین کونسل ٹھیریاں کے 33 پولنگ اسٹیشنز پر 99 فیصد پولنگ ظاہر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کمار بانڈی پولنگ اسٹیشن پر زبردستی مسلم لیگ (ن) کے حق میں ووٹ ڈلوائے گئے، انکار کرنے والوں پر تشدد کیا گیا، گرتھان میں میرے ساتھی ممتاز نقوی پر حملہ ہوا، انہیں گولی لگی اور ان کی گاڑی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا
سنواڑیاں میں ایک پولنگ اسٹیشن پر 99 فیصد جبکہ دوسرے پر صرف 20 فیصد پولنگ رہی، یہی نتائج سب کچھ بیان کر رہے ہیں،الیکشن کمیشن کو پہلے ہی سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کا کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر صاف اور شفاف انتخابات ہوتے تو مسلم لیگ (ن) مخالف امیدوار کے بغیر بھی 32 ہزار ووٹ حاصل نہ کر سکتی، الیکشن کمیشن 45 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائے، تمام ثبوت فراہم کر دئیے ہیں،اس الیکشن کو ہر قانونی فورم پر جعلی ثابت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کا فرانزک کرایا جائے گا، تمام اخراجات ہم خود برداشت کریں گے، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام سے کشمیر کا بچہ بچہ دھاندلی کا حساب لے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد ،2حلقوں کے نتائج مکمل آگئے، ن لیگ کی نورین عارف، پی پی کے بازل نقوی کامیاب
میرے حلقے میں بیلٹ پیپرز پر پہلے سے مہریں لگا کر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو دیے گئے، جنہیں ضبط کرکے الیکشن کمیشن کے حوالے کیا گیا،پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانے کا اعلان بھی دیہی علاقوں تک نہیں پہنچا۔
قائم مقام صدر نے سوال اٹھا یا کہ اگر دوپہر 12 بجے پولنگ شروع ہوتی اور شام پانچ بجے بند ہو جاتی تو صرف چند گھنٹوں میں 56 ہزار ووٹ کیسے کاسٹ ہو گئے؟،صرف چند گھنٹوں میں 56 ہزار ووٹ کاسٹ ہونا ناقابلِ یقین ہے
انہوں نے کہا کہ 45 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی ہے،اگر ری پولنگ نہ ہوئی تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور اس الیکشن کو جعلی ثابت کریں گے۔




