امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملے روکنے کے اہم اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کے بینچ مارک میں چار ڈالر سے زائد فی بیرل کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کے تجارتی نرخوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ کم ہوا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی ٹریڈنگ پر فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
خام تیل کے نرخوں میں کمی کی تفصیلا ت:
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.08 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 83.85 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ خام تیل کی مارکیٹ میں اس نمایاں کمی کو عالمی سیاسی صورتحال میں آنے والی تبدیلی سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی ، عالمی مارکیٹ میں خام تیل مزید مہنگا
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 4.01 ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور وہ سستا ہونے کے بعد 80.66 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ رائٹرز کے مطابق دونوں اہم بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی وقت میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
سابقہ کشیدگی اور قیمتوں میں اضافہ:
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں شدید تشویش پھیل گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تہران کی فورسز کی جانب سے عمان کے قریب متعدد آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔
ان کشیدہ واقعات اور آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم اب امریکی صدر کے تازہ اعلان کے بعد یہ قیمتیں دوبارہ نیچے آ گئی ہیں۔
عالمی منڈی کا موجودہ تاثر:
ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں اراکین کی توجہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حملے روکنے کے اعلان نے عالمی مارکیٹ کو فوری طور پر مستحکم کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں آئل مارکیٹ میں چار ڈالر فی بیرل سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے اور برینٹ 83.85 جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 80.66 ڈالر پر بند ہوا ہے۔



