مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے شعبہ ادویات کی تجدیدِ نو کرتے ہوئے روایتی مینوفیکچرنگ کو ایک جدید اور ڈیٹا پر مبنی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ سينئر انڈسٹری ایگزیکٹو کے مطابق اس سے ادویات کی تیاری میں تیز رفتاری، معیار اور مریضوں کی حفاظت میں بہتری آئے گی۔
مارٹن ڈاؤ گروپ کے گروپ چیف انفارمیشن آفیسر اجلال جعفری نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اے آئی جہاں نئی ادویات کی دریافت اور علاج کی افادیت بڑھا رہی ہے، وہیں پاکستان کے لیے بھی یہ پیداواری صلاحیت، بہتر فیصلے کرنے اور صحت کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک شاندار موقع ہے۔
فارما 4.0 اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کا نفاذ:
اجلال جعفری کے مطابق چونکہ پاکستان کا فارماسیوٹیکل سیکٹر بنیادی طور پر تحقیق و ترقی کے بجائے ادویات کی تیاری (فارمولیشن) پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے، اس لیے اس وقت سب سے زیادہ افادیت ”اسمارٹ مینوفیکچرنگ“ میں ہے، جو انڈسٹری 4.0 کی بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لطیف اکبر پر قاتلانہ حملہ، وزیراعظم فیصل راٹھور کا نوٹس،ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ
فارما 4.0 کے نفاذ سے اے آئی، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے روایتی پیداوار کو جدید بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل نظام اسمارٹ سینسرز کے ذریعے رئیل ٹائم پیداواری نگرانی، پیشگی مرمت و دیکھ بھال اور اے آئی پر مبنی طلب کی پیشن گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ مزید برآں یہ ڈرَگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے خودکار آڈٹ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
مارٹن ڈاؤ گروپ کے اقدامات اور انسانی مہارت:
انہوں نے مزید بتایا کہ مارٹن ڈاؤ گروپ نے حال ہی میں ایس اے پی / فور ایچ اے این اے کو ایک واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر فعال کیا ہے جو مالیات، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گروپ نے ٹیک ڈے کا انعقاد بھی کیا جس میں ایس اے پی، مائیکروسافٹ اور سیلز فورس کے ماہرین نے اخلاقی اے آئی اور سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم اجلال جعفری نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی مہارت کی جگہ لینے کے بجائے ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔




