مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر پولنگ جاری، عوام کا جمہوری نظام پر بھرپور اعتماد

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کی پولنگ آج مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر جاری ہے، جہاں ووٹنگ کے لیے صبح سے ہی ووٹرز کی پولنگ اسٹیشنوں پر آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں قریباً 46 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں بھی انتخابی عمل کے دوران عوام کی جانب سے بھرپور شرکت دیکھی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں مرحلوں میں عوام کی بھرپور شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیری عوام سیاسی فیصلوں کے لیے جمہوری اور آئینی عمل پر اعتماد رکھتے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بیلٹ بکس کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔

انتخابی مہم اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں:

دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل مظفرآباد، جہلم ویلی اور نیلم کے اضلاع کئی ہفتوں تک انتخابی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، اور استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بڑے جلسے، انتخابی ریلیاں، کارنر میٹنگز اور گھر گھر رابطہ مہم چلائی، جبکہ امیدواروں نے ووٹرز کے سامنے اپنے منشور، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل شروع، 8 لاکھ 10 ہزار ووٹر ووٹ کا حق استعمال کریں گے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مختلف جماعتوں کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ ضرور دیکھنے میں آیا، تاہم تمام جماعتوں نے اپنی سیاسی طاقت کا امتحان عوام کی عدالت میں پیش کیا۔ اب فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہے، جو جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔

ووٹر ٹرن آؤٹ اور عوامی دلچسپی:

میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے میں قریباً 46 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کو بھی سیاسی مبصرین اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ شرح اس بات کا اظہار تھی کہ عوام انتخابی عمل سے لاتعلق نہیں بلکہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں بھی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی موجودگی اس تاثر کو مزید تقویت دے رہی ہے کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لیے جمہوری نظام کو ہی مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کی اہمیت:

دوسرے مرحلے کا ایک اہم پہلو مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں بھی ہیں، جنہیں اس مرتبہ غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی اور سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر ووٹر اس انتخاب میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ گزشتہ عرصے کے دوران مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سے متعلق اٹھنے والی بحث اور مطالبات ہیں۔

اس صورتحال کے بعد مہاجرین مقیم پاکستان میں اپنی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی، جس کے باعث انتخابی مہم کے دوران بھی ان کی دلچسپی نمایاں رہی اور پولنگ کے روز بھی ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق مہاجر ووٹر اس انتخاب کو صرف امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ اپنی آئینی اور سیاسی نمائندگی کے تحفظ کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے، اسی لیے مہاجر نشستوں پر سیاسی سرگرمیاں بھی خاصی متحرک رہیں۔

عوامی شرکت اور جمہوری عمل کی کامیابی:

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتخاب کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ کون سی جماعت کتنی نشستیں حاصل کرتی ہے، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ عوام انتخابی عمل میں کس حد تک شریک ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ووٹر جب پولنگ اسٹیشن تک پہنچتا ہے تو وہ صرف ایک امیدوار کو ووٹ نہیں دیتا بلکہ وہ جمہوری نظام، آئینی عمل اور عوامی نمائندگی پر اپنے اعتماد کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں پہلے مرحلے سے دوسرے مرحلے تک جاری انتخابی سرگرمیوں کو جمہوری تسلسل کی ایک مثبت علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سیاسی اختلافات کا حل ووٹ کی طاقت میں ہے۔ انتخابی مہم کے دوران تمام جماعتوں نے عوام سے رجوع کیا، اپنا مؤقف پیش کیا اور اب فیصلہ عوام کے سپرد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری معاشروں میں بیلٹ بکس ہی عوامی رائے کا سب سے مؤثر اظہار ہوتے ہیں، اور آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل اسی روایت کو مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: الیکشن سبوتاژ کرنے کی ایک اورناکام کوشش؛ مظفرآباد میں بھی ‘جعلی لاشوں’ کا پروپیگنڈا بے نقاب

جمہوری نظام پر اعتماد اور سیاسی استحکام:

پہلے مرحلے میں عوام کی شرکت اور دوسرے مرحلے میں جاری پولنگ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیری عوام سیاسی عمل کا حصہ بننے، اپنی نمائندگی کے حق کا استعمال کرنے اور جمہوری نظام پر اعتماد کے اظہار کے لیے ووٹ کو ہی سب سے مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر نشستوں پر بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمی اور مظفرآباد ڈویژن میں بھرپور انتخابی مہم کے بعد ووٹرز کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے بیلٹ کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں، اور یہی رویہ جمہوری نظام کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔