مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے حلقہ ایل اے 31 مظفرآباد 5 کھاوڑہ سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی ثاقب مجید راجہ کی کامیابی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ پٹیشن ان کے مدمقابل امیدوار کے وکلاء کی طرف سے دائر کی گئی ہے، جن کی نمائندگی ثاقب احمد عباسی ایڈوکیٹ کر رہے ہیں۔
الیکشن پٹیشن میں اختیار کردہ مؤقف اور الزامات:
ثاقب احمد عباسی ایڈوکیٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے روبرو چوہدری لطیف اکبر کی جانب سےدائر کی جانے والی اس الیکشن پٹیشن میں بنیادی مؤقف یہ اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران اس حلقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ پٹیشن میں یہ مؤقف رکھا گیا ہے کہ انتخاب میں دس سے پندرہ ہزار ایسے ووٹ کاسٹ کیے گئے جو سرے سے جعلی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ برقیات میں اصلاحات ، ثاقب مجید نے فیلڈ اسٹاف کو ایک ماہ کا ٹارگٹ دیدیا
درخواست میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ایسے سات پولنگ اسٹیشنز موجود ہیں جہاں ٹرن آؤٹ بانوے، چورانوے، پچانوے اور سو فیصد تک ظاہر کیا گیا۔ ان میں سے اکثریت یعنی دس سے چودہ ہزار ووٹ ایسے تھے جو کاؤنٹر فائل کے بغیر، ووٹرز کی غیر موجودگی میں، فوت شدہ افراد کے نام پر اور بیرونِ ملک مقیم افراد کے نام پر جعلی طور پر کاسٹ کیے گئے، اور انہی جعلی ووٹوں کی بنیاد پر مد مقابل امیدوار کی جیت ظاہر کی گئی۔
نادرا تصدیق اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ:
پٹیشنرز کی جانب سے الیکشن کمیشن میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ تمام متنازع پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کو نادرا (NADRA) کی تصدیق کے لیے بھیجا جائے۔ اس کے علاوہ یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ جن ووٹوں پر جعلی انگوٹھے کے نشانات تھے، جو کاؤنٹر فائل سے اضافی ڈالے گئے یا جہاں ایک سے زائد ووٹ ایک ساتھ کاؤنٹ کیے گئے، ان تمام جعلی ووٹوں کو ضائع کیا جائے۔ پٹیشن میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام متنازع اور جعلی ووٹوں کی کٹوتی کے بعد درست نتائج کی بنیاد پر اصل امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا جائے۔




