برطانیہ سے بڑی خبر! جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی عاشق فردوسی کے خاندان کے خلاف بڑا قدم

برطانیہ سے بڑی اور اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان اور اس کے اہم قومی اداروں کے خلاف متنازع بیانات دینے اور وائرل ویڈیوز سے سرخیوں میں آنے والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی عاشق فردوسی کے خاندان کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ تنازعات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے موقف کے بعد عاشق فردوسی اور ان کے خاندانی ذرائع کو شدید نوعیت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عاشق فردوسی کی جانب سے برطانیہ میں بیٹھ کر دی گئی تقریر اور نازیبا رویے پر جہاں مقبوضہ و آزاد کشمیر سمیت دیگر سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا تھا، وہیں اب ان کے حوالے سے قانونی و انتظامی سطح پر بھی معاملات کارروائی کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ساجدہ احمد کشمیری اوورسیزکشمیریوں پر برس پڑیں!

ردِعمل اور عوامی و سیاسی تحفظات:

یاد رہے کہ اس سے قبل چیئرپرسن استحکام پاکستان اتحاد ساجدہ احمد کشمیری سمیت متعدد کشمیری و قومی رہنماؤں کی جانب سے برطانیہ میں بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور نامناسب الفاظ کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔ عوامی و سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر ملک کی سالمیت اور اداروں پر حملے کرنے والوں کو ان کے کیے کا جوابدہ بنایا جانا ضروری ہے اور افراد کے اپنے رویے ہی ان کے لیے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔