ڈڈیال تاجر برادری نے ایکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا، شدید احتجاج

ڈڈیال : ڈڈیال کی تاجر برادری نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ طویل ہڑتال اور کاروبار کی مسلسل معطلی کے بعد پیش آنے والی سنگین صورتحال اور سوشل میڈیا سمیت مختلف سطحوں پر مسلسل طعنہ زنی کے خلاف تاجر برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ڈڈیال کے تاجروں نے طعنہ زنی اور الزامات پر انتہائی تند و تیز ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک اپنے تمام کاروبار ٹھپ رکھ کر ہم نے کامل ثابت قدمی دکھائی، کیا تب ہم بالکل ٹھیک اور قابلِ تعریف تھے؟ لیکن آج جب شدید معاشی تنگدستی، بچوں کی کفالت اور مجبوری کے تحت ہم دکانیں کھولنے پر مجبور ہوئے ہیں، تو الٹا ہمیں سہولت کار قرار دیا جا رہا ہے اور چوڑیاں پہننے کے نامناسب طعنے دیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: حالات معمول پر، ایکشن کمیٹی کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا بے نقاب

معاشی ابتری اور اخراجات پر سوالات:

تاجر برادری نے گہرے دکھ اور احتجاجی انداز میں سوال اٹھایا کہ ایک مہینے سے زائد کی مسلسل بندش کے دوران کسی ایک شخص یا رہنما نے آ کر یہ پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی کہ تاجروں کا گھر کیسے چل رہا ہے؟ گھر کے روزمرہ کے اخراجات کہاں سے پورے ہو رہے ہیں يا دکانوں کے بھاری کرائے اور بجلی کے بل کون ادا کر رہا ہے؟

تاجروں کا کہنا تھا کہ معاشی طور پر مکمل تباہی کے بعد اب مزید کاروبار بند رکھنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجروں نے ہر قدم پر تحریک اور عوام کا ساتھ دیا لیکن ان کی گھریلو اور معاشی مجبوریوں کو سمجھے بغیر ان پر سہولت کاری کا لیبل لگانا سراسر ناانصافی اور حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی سازش بے نقاب، کالعدم ایکشن کمیٹی کی شرپسند ٹولیاں متحرک

اور پڑھیں: برطانیہ سے بڑی خبر! جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی عاشق فردوسی کے خاندان کے خلاف بڑا قدم