پرتشدد واقعات: کالعدم ایکشن کمیٹی کی فائرنگ سے اہلکار اور راہگیر زخمی ہوئے،میرپور پولیس

میرپور (کشمیر ڈیجیٹل)میرپور آزادکشمیر میں 28 جولائی 2026 کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور کشیدگی کے حوالے سے پولیس نے اپنا باضابطہ مؤقف جاری کر دیا ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بعض حلقے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کو نہتے شہری قرار دے کر ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ مظاہرین میں ڈنڈوں اور اسلحہ سے لیس شرپسند عناصر شامل تھے۔

پولیس ترجمان کے مطابق شہریوں کی جانب سے متعدد کالز موصول ہوئیں کہ کچھ افراد ڈنڈوں اور اسلحہ کے زور پر زبردستی دکانیں بند کروا رہے ہیں اور دکانیں کھلی رکھنے والے تاجروں کی تصاویر بنا رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں احتجاج کی آڑ میں انتشار اور فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ ہیں، ایس ایس پی ریاض مغل

اطلاع ملتے ہی جب پولیس نفری موقع پر پہنچی تو جلوس میں شامل ایک شخص نے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس پر اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

اس دوران 3 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے فائرنگ کرنے والا شخص بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

ہلاک ہونیوالے شخص کے قبضے سے پستول اور موقع سے کارتوس برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے سوشل میڈیا پر سڑکوں پر لاشیں پڑی ہونے کے دعووں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ موقع سے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جنہیں سوشل میڈیا پر زخمی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

اہلکار یرغمال، مارکی پر پتھراؤ اور فائرنگ

پولیس کے مطابق بن خورمہ اور میاں محمد ٹاؤن میں سڑکیں بلاک کی گئیں، جبکہ الیکشن ڈیوٹی پر تعینات پنجاب پولیس کے دو کانسٹیبلز احتشام اور عدنان کو یرغمال بنا کر دیگر اہلکاروں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس کے بعد شرپسندوں کے ایک گروہ نے رحمت پیلس مارکی کا رخ کیا جہاں پنجاب پولیس کے اہلکار مقیم تھے، اور وہاں شدید پتھراؤ کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امام مسجد، خاتون و بچےکی شہادت اور کرفیو کی تمام خبریں من گھڑت ہیں،میرپور انتظامیہ

ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا تو چھتوں سے مسلسل فائرنگ کی گئی، جس میں ایک پولیس انسپکٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم گولی ساتھ کھڑے کانسٹیبل عمران کی ٹانگ میں لگی۔ فائرنگ کی زد میں آکر دو راہگیر بھی زخمی ہوئے، لیکن ان تمام واقعات کا الزام پولیس پر لگا دیا گیا۔

ہسپتال میں زیر علاج کانسٹیبل عمران نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پہلے فائرنگ مظاہرین کی طرف سے کی گئی جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔

عوام سے اپیل اور شہر کی موجودہ صورتحال

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری پولیس کو دیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر مظاہروں کی آڑ میں امن خراب کرنا چاہتے تھے، تاہم اب میرپور میں صورتحال قابو میں ہے۔ شہر میں تمام مرکزی شاہراہیں اور بازار کھلے ہیں اور کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔