آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے راولا کوٹ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ راولا کوٹ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس میں غلط اور صحیح کا تعین ایک الگ بات ہے، لیکن انسانی جانوں کا ضیاع ریاست کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور نا قابلِ برداشت ہے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ن لیگ کی سیاسی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر ترجیح صرف اور صرف الیکشن جیتنا ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت یا قیمت پر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس قسم کا کشیدہ اور پرتشدد ماحول اس وقت بنایا گیا ہے، ایسے حالات میں الیکشن کی شفافیت پر سوالیہ نشان بالکل نہیں اٹھنا چاہیے بلکہ ماحول کو پرامن بنانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس میں بھرتی کا خواب لیے آنے والا امیدوار جان کی بازی ہار گیا
الیکشن بائیکاٹ کی تردید اور پرامن مرحلے کی امید:
ان کی جانب سے سیاسی موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ الیکشن کا نہ تو بائیکاٹ کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کا اگلا مرحلہ مکمل طور پر پرامن اور شفاف ہونا چاہیے۔ جب ان سے ووٹرز کے حصہ لینے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ٹرن آؤٹ کے حوالے سے فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔
دھرنے کی قیادت سے اپیل اور مذاکرات کی پیشکش:
راولا کوٹ میں جاری دھرنے اور کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے دھرنے کے شرکاء اور قیادت سے اپیل کی کہ معصوم انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو باقی تمام چیزوں اور اختلافات کو سائیڈ پر رکھ کر صرف بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: فسادیوں کا انتخابات کے دوران مظفر آباد کی طرف مارچ سازشی منصوبہ تھا: وزیر اعظم فیصل راٹھور
تاہم، انہوں نے ریاستی وقار اور قانون کی حاکمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سامنے کھڑے ہو کر اور معصوم لوگوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے حتمی الفاظ میں کہا کہ ریاست مزید کسی بھی صورت میں انسانی جانوں کے ضیاع کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لیے فوری طور پر امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔




