آسٹریلین ایئرلائن “کانٹاس” (Qantas) نے ہوابازی کی تاریخ میں ایک نیا اور غیر معمولی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایئرلائن کا جدید ایئر بس جیٹ طیارہ آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے پرواز بھرنے کے بعد 24 گھنٹے اور 24 منٹ کے مسلسل سفر کے بعد فرانس کے شہر تولوز (Toulouse) میں کامیابی سے لینڈ کر گیا۔ اس پرواز کو کمرشل ہوابازی کی تاریخ کی طویل ترین پرواز قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تاریخ ساز پرواز کانٹاس ایئرلائن کے پروجیکٹ “سن رائز”کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد آسٹریلیا سے لندن اور نیویارک کے درمیان بغیر کسی وقفے کے براہِ راست پروازیں شروع کرنا ہے۔
ریکارڈ توڑ پرواز اور طیارے کی خصوصیات:
تولوز میں ایئر بس کے مرکزی کارخانے میں لینڈ کرنے والے اس خصوصی طیارے ‘A350-1000ULR’ نے بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس (Pacific and Atlantic oceans) کے اوپر سے گزرتے ہوئے کل 23,075 کلومیٹر (14,338 میل) کا طویل فاصلہ بغیر کہیں رکے طے کیا۔ اس سے قبل دنیا کی طویل ترین پرواز کا ریکارڈ بوئنگ 777–200LR کے پاس تھا جس نے 2005 میں ہانگ کانگ سے لندن کے درمیان 22 گھنٹے اور 42 منٹ کی پرواز کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
ایئر بس انتظامیہ کے مطابق اس خصوصی طیارے میں 20,000 لیٹر اضافے ایندھن کا ٹینک نصب کیا گیا ہے تاکہ یہ طویل ترین سفر بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کر سکے۔ اس طیارے میں 238 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ کا نیا ریکارڈ اور پروجیکٹ “سن رائز” کا مستقبل:
اس تاریخی پرواز نے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ (Flightradar24) کے مطابق 3.6 ملین سے زائد افراد نے آن لائن اس پرواز کے سفر کو لائیو ٹریک کیا۔ یہ ویب سائٹ کی تاریخ میں ملکہ ملکہ الزبتھ دوم کے جسدِ خاکی کو لے جانے والی 2022 کی فلائٹ کے بعد دوسری سب سے زیادہ دیکھی جانے والی پرواز بن گئی ہے۔
کانٹاس ایئرلائن نے اس قسم کے 12 ترمیم شدہ ایئر بس طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔ ایئرلائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پہلی پروازوں کی ترسیل اپریل 2027 میں شروع ہوگی، جبکہ اکتوبر 2027 سے سڈنی اور لندن کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست غیر معمولی پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے وہ سفر جو کبھی پانچ دنوں پر محیط ہوتا تھا، وہ اب محض 19 سے 21 گھنٹوں میں سمیٹ دیا جائے گا۔




