قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم اور کامیاب کارروائی کے دوران فتنۃ الخوارج کے اہم سہولت کار اور خود ساختہ مولوی ظفریاب کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد ہونے والی تفتیش میں دہشت گردی کی سہولت کاری، بھتہ خوری اور مذہب کی آڑ میں من گھڑت فتووں کے استعمال سے متعلق انتہائی سنسنی خیز اور اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم فتنۃ الخوارج کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ دورانِ تفتیش خود ساختہ مولوی ظفریاب نے اعتراف کیا کہ اس نے درس نظامی کی تعلیم جامعہ نظام العلوم بنوں اور تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوریوالہ سے حاصل کی، جبکہ اس کے خارجی کمانڈر حکمت روشان اور گل بہادر شوریٰ کے ساتھ بھی گہرے تعلقات رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں و گردو نواح میں میں فورسز کا بڑا آپریشن، بھارتی پراکسی فتنہ الخواج کے 24 دہشت گرد جہنم واصل
“فتنۃ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں” ملزم کا اعتراف:
ملزم نے تفتیش کے دوران بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گرد عناصر نام نہاد جہاد کے نام پر سرمائے داروں اور کاروباری شخصیات کو دھمکانے اور ان سے بھتہ وصول کرنے کے لیے من گھڑت فتووں کا سہارا لیتے تھے۔ اس نے واضح اعتراف کیا کہ فتنۃ الخوارج کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ عناصر صرف اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہب کا بے دریغ اور غلط استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے اور حکام کا عزم:
معاملے پر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنے نیٹ ورک کو فعال رکھنے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں اور انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔ اس قسم کی شدت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے غیر قانونی اداروں کی سخت نگرانی، شفاف جانچ پڑتال اور قانون کا مؤثر نفاذ انتہائی ضروری ہے۔ حکام نے اعادہ کیا ہے کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔




