واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کے زخم آئے ۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، مختلف شہروں میں دھماکے
انہوں نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ان میں سے 96 فیصد زخمی فوجی ڈیوٹی پر واپس آچکے ہیں۔
یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اردن کے امریکی ائیربیس پر ایرانی میزائل حملوں میں 25 سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز اور 19سالہ ازابیلا گونزالیس ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے
اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضا کا جائزہ لے رہی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کا بیڑہ غرق کر کے امن کی باتیں کرتے ہیں ، ایرانی سفیر
امریکا ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف پہلے ہی کرچکا، ایک امریکی فوجی لاپتہ ہے۔گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کو کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔
اس سے پہلے ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا تھا جب کہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔




