اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کشمیرڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر صحافی واینکر سعد ذوالفقار خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بنیاد کشمیر کاز پر ہی رکھی گئی ہے ۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر کشمیر کیلئے ہزاروں سال بھی جنگ لڑنا پڑی تو ہم لڑیں گے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیر آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی ملنی چاہیے۔
چیئرمین بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ 99 فیصد گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ انہیں عبوری صوبے میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں دیگر صوبوں کی طرح عوامی حقوق مل سکیں۔
کشمیر کاز پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریے اور تاریخ کا بنیادی حصہ ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیر آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو مزید آئینی، سیاسی اور نمائندہ حقوق دیے جائیں، جبکہ حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر عوام کی زندگی مفلوج نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت قانون نافذ کرے، لیکن کارروائی صرف قانون توڑنے والوں کے خلاف ہو، نہ کہ پوری ریاست یا عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر سیکیورٹی اقدامات ناگزیر ہوں تو انہیں صرف متاثرہ علاقوں تک محدود رکھا جائے۔
ہمیں اختلافات کے بجائے سچائی، مفاہمت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دینا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے توقع ہے کہ اپنے وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لیں، کیونکہ ایسے حساس حالات میں ذمہ دارانہ گفتگو ہی قومی مفاد اور کشمیر کاز کے لیے مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو شہید نے او آئی سی فورم میں کشمیر اوبزرور ڈیسک قائم کیا تھا۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کے حوالے سے میری تجویز ہے باقی فیصلہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی عوام نے کرنا ہے ۔۔
اس کیلئے سب سے پہلے عالمی ، آئینی مبصرین کی رائے بھی ضروری ہے اس کیلئے ہم چاہتے ہیں کہ ایک آئینی کانفرنس بلائی جائے جس میں متفقہ فیصلہ کیا جائے تاکہ کشمیری عوام اپنے حقوق کی آواز سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ذریعے دنیا تک پہنچا سکیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کینیڈین وزیرخارجہ کی اہم ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا وفاقی حکومت میں ایک ادارہ موجود ہے جو وفاقی امور کشمیر وگلگت بلتستان کہلاتا ہے تو کیا اس ادارے کا گلگت بلتستان اور کشمیر کے امور سے کوئی تعلق ہے ۔
کیا اس ادارے کے ذریعے کشمیریوں کی آواز عالمی سطح پر پہنچائی جارہی ہے ۔ ایسا ابھی تک ممکن نہیں ہوا۔ تو ہمارا موقف ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو گرانٹس پر چلایا جارہا ہے ۔ اس میں بہترین کی گنجائش ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق منوانے کیلئے یہ کوئی طریقہ نہیں کہ پوری ریاست کو یرغمال بنایا جائے،عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج نہ صرف احتجاج کرنیوالے لوگ نقصان اٹھا رہے ہیں اس سے پوری ریاست غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے اور پونچھ کے عوام کا زیادہ نقصان ہورہا ہے
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جو آزادکشمیر اور پاکستانی حکومت کی غلطیاں ہونگی ان کی سزا پوری ریاست کو تو نہیں دی جاسکتی۔ وفاقی حکومت سے بھی کہا ہے کہ جرائم سےمنسلک عناصر کو قانون کے دائرے میں لایا جائے ۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سے عام شہری، معیشت، کاروبار، تعلیم اور انتخابی عمل متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی مخصوص علاقے میں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو اقدامات بھی صرف انہی علاقوں تک محدود ہوں، جبکہ باقی علاقوں میں انٹرنیٹ فوری بحال کیا جائے تاکہ عوام کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے تاکہ انتخابی مہم، عوامی رابطوں اور روزمرہ زندگی کو معمول پر لایا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جو لوگ ریاستی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ہمیں انہیں سزا دلوانی چاہیے جو جرائم میں ملوث ہیں ۔
ایک سوال کہ لاک ڈائون راولاکوٹ اور اس کے گردو نواح میں ہے تو آپ کی حکومت اور آ پ کی حکومت نے پورے آزادکشمیر کاانٹرنیٹ کیوں بند کیاہوا ہے؟بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کاش یہ اتنی آزادی آزاد کشمیر کی حکومت کو دیتے اور انٹرنیٹ والا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا۔
انٹرنیٹ کا جو نظام ہے نہ کسی صوبہ کے پاس ہے نہ ہی آزادکشمیر ،گلگت بلتستان حکومت کے پاس انٹرنیٹ کا سوئچ ہے ۔ یہ ڈائریکٹرلی وفاقی حکومت کے ادارے آئی ٹی کے نیچے آتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کارکردگی کی بنیاد پر حکومت بنائے گی،بیرسٹر افتخار گیلانی
بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر بھر میں الیکشن مہم زوروں پر ہے ، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو خط لکھیں گے کہ وہ آزادکشمیر کا انٹرنیٹ فوری بحال کریں تاکہ اس ڈیجیٹل دور میں الیکشن مہم کو بھرپور انداز میں چلا سکیں اور شفاف الیکشن یقینی بنایا جاسکے ۔
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ جو علاقے احتجاجی دھرنے سے متاثر نہیں ہیں ان علاقوںمیں فوری انٹرنیٹ بحال کیا جائے اور امید ہے کہ اس پر کام ضرور ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ میں اب بھی مفاہمتی سیاست کا قائل ہوں ۔ حکومت کو حقائق کے مطابق قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیں،ہم چاہتے ہیں کہ قانون ان پر لاگو ہو جو ریاستی رٹ چیلنج کرنے میں ملوث ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم شہبازشریف پر اپنے خطاب میں تنقید کی نہ ہی ان سے میرا کوئی اختلاف ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ شہبازشریف کی کامیابی میں ہی پاکستان کی کامیابی ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف کے وزراء کی جانب سے بعض بیانات کی وجہ سے آزادکشمیر میں مزید مشکلات میں اضافہ ہوا۔ ان کے بیانات سے آگ پر مزید تیل چھڑکا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں میں نے وزراء پر تنقید کی ۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر ذمہ دار عہدوں پر موجود افراد کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔ اگر کوئی وفاقی وزیر اپنے نامناسب الفاظ پر نہ معذرت کرے اور نہ ہی اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرے، تو اس سے یہی تاثر جاتا ہے کہ وفاقی حکومت ان بیانات کی تائید کر رہی ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا حل اشتعال انگیزی میں نہیں بلکہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل، مکالمے اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھنے میں ہے۔




