باغ( کشمیر ڈیجیٹل )شدید بارشوں کی وجہ سے نالہ ماہلوانی میں میں طغیانی کے باعث گزشتہ رات کئی دوکانیں اور مکانات نالے کی نظر ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق باغ مین پل کیساتھ 8دوکانیں،7مکانات اور چار گاڑیاں نالے میں بہہ گئی جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انتظامیہ نے شہریوں کو نالے سے دور رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہے جبکہ نالے کے پاس مکانات اور دوکانیں خالی کر دی گئی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی پولنگ کا پہلا مرحلہ مکمل، 80 فیصد ریکارڈ ٹرن آؤٹ
باغ اور گردونواح میں طوفانی بارش کے باعث نالہ ماہل میں شدید طغیانی، قندیل کالونی کے متعدد مکانات اور 15 گاڑیاں بہہ گئیں، شاہراہیں بند ہوگئیں۔
ضلع باغ اور اس کے بالائی علاقوں گنگا چوٹی، بیرپانی اور سدھن گلی میں رات گئے ہونے والی موسلا دھار اور طوفانی بارش کے باعث نالہ ماہل میں انتہائی درجے کی طغیانی آ گئی۔
سیلابی ریلے نے قندیل کالونی اور بائی پاس کے علاقوں میں شدید تباہی مچادی جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔
قندیل کالونی کی صورتحال’’ نالہ ماہل میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے کی شدت سے قندیل کالونی میں واقع متعدد رہائشی مکانات پانی میں بہہ گئے۔
مالی ضیاع گھروں میں موجود قیمتی اشیاء، فرنیچر اور سامان سیلابی پانی کی نذر ہو گیا۔بروقت آگاہی اور فوری نقل مکانی کے باعث اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم اور کاغان میں کلاؤڈ برسٹ، سیلابی ریلے میں دکانیں، مکانات اور سڑکیں بہہ گئیں
باغ بائی پاس اور اس کے ملحقہ تجارتی علاقوں میں سیلاب کا بہاؤ انتہائی شدید تھا، متعدد آٹو ورکشاپس اور دیگر تجارتی دکانیں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
گاڑیاں نالہ برد آٹو ورکشاپس میں مرمت کیلئے موجود اور باہر پارک کی گئی کم از کم15گاڑیاں تیز رفتار پانی کے بہاؤ میں نالہ ماہل میں بہہ گئیں۔
طوفانی بارشوں کے نتیجے میں باغ اور اس کے گردونواح کی پہاڑی ڈھلوانوں پر متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ۔سڑکوں کی بندش باغ کو ملحقہ علاقوں اور دیگر شہروں سے ملانے والی مرکزی شاہراہیں ملبہ اور پتھر گرنے کی وجہ سے آمدورفت کیلئے معطل ہو چکی ہیں۔
انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے شہریوں اور مسافروں کو شدید التماس کی جاتی ہے کہ سڑکوں کی بحالی اور موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک *ہر قسم کے غیر ضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں۔
ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔




