آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اگر میں اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گیا تو پھر پوری زندگی کبھی الیکشن نہیں لڑوں گا کیونکہ وزیراعظم کے منصب سے بڑا کوئی عہدہ نہیں اور اس کے بعد کسی اور سیاسی منصب کی خواہش باقی نہیں رہتی۔
میں نے اپنی زندگی میں وعدوں کی پاسداری کی،میر امعاہدہ کشمیری خاندان کیساتھ قائم ہے،الیکشن جیت کر خدمت کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کے سکواڈ میں شامل گاڑی حادثے کا شکار، پولیس اہلکار جاں بحق، 6 زخمی
حلقہ انتخاب حویلی فارورڈکہوٹہ کے حلقے کالامولا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ریاست کی خدمت کا موقع دیا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو عوامی فلاح و بہبود کے ذریعے ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بننا صرف محنت کا نہیں بلکہ اللہ کے فضل اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے معاشرہ برادری، قبیلے اور خاندانوں کی بنیاد پر تقسیم ہو چکا ہے حالانکہ یہ تقسیم ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص کی اصل شناخت اس کے کردار، خدمت اور علاقے سے ہونی چاہیےنہ کہ برادری یا قبیلے سے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے انتہائی مشکل سیاسی حالات میں حکومت سنبھالی، ایسے وقت میں جب ریاست میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی اور نفرتیں پھیلائی جا رہی تھیںتاہم میں نے ریاست میں امن، ترقی اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ریاست بھر میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا، تعلیمی منصوبے شروع کیے گئے، مختلف سرکاری ملازمین کے مسائل حل کیے گئے اور ایسے طبقات کی امیدیں بحال کی گئیں جو مایوسی کا شکار تھے۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا تاکہ مسائل افہام و تفہیم سے حل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:فیصل راٹھورکوبڑاجھٹکا، ضلعی صدر پیپلزپارٹی، 22کونسلرز، 4 ڈسٹرکٹ کونسلرزکامستعفی ہونے کا فیصلہ
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آج بھی احتجاج پر ہے، لیکن شدید تنقید کے باوجود انہوں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، ان کی بات سنی گئی اور آج بھی حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ تصادم کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ عوامی مسائل خوش اسلوبی سے حل ہوسکیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آج ریاست بھر کے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم ہاؤس کا رخ کررہے ہیں اور حویلی کے عوام کی سیاسی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حالات میں عوام نے صرف برادری یا ذاتی اختلافات کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے مخالفین سے بھی کوئی ذاتی اختلاف نہیں، ہمیشہ وعدوں کی پاسداری کی اور سیاست میں بھی اسی اصول پر عمل کیا، میں نے ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کی سیاست کی، اسی لیے مختلف برادریوں اور قبائل کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اسمبلی کے بجٹ میں حویلی کے لیے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے۔ انہیں بتایا گیا کہ ایک ہی حلقے کے لیے اتنے منصوبوں پر دیگر ارکان اسمبلی اعتراض کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کام انہوں نے وزیراعظم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کرائے کیونکہ یہ ان کے حلقے کے عوام کا حق تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے میں دانش اسکول، سڑکوں کی تعمیر، یونیورسٹی، درجنوں اسکولوں کی منظوری، سائنس کالج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
کالامولا یونین کونسل میں بنیادی مرکز صحت، مختلف سرکاری اسکولوں کی عمارتیں، سڑکوں، پلوں اور دیگر منصوبوں پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کے ذریعے بھی متعدد ترقیاتی سکیمیں مکمل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مزید موقع دیا تو آئندہ 3 برسوں میں صرف حویلی ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کو ترقی کی نئی مثال بنا دیں گے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام اتحاد برقرار رکھیں اور معمولی ناراضیوں یا ذاتی اختلافات کی وجہ سے اجتماعی مفاد کو نقصان نہ پہنچائیں۔
یہ بھی پڑھیں:امن و امان یقینی بنانے کیلئے ایک اور قدم آگے بڑھنے کو تیار ہیں، وزیراعظم آزادکشمیر
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ انتخاب ان کی ذات کا نہیں بلکہ حویلی کے مستقبل، ترقی اور عزت کا انتخاب ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رہے،اگر ان کے اپنے حلقے کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا تو وہ اسے اپنا آخری الیکشن تصور کریں گے اور آئندہ کبھی انتخابی میدان میں نہیں اتریں گے۔




