امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، یہ ایک سادہ اور واضح حقیقت ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی پوڈکاسٹر جو روگن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکا کا اتحادی ہے، تاہم وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا باب المندب بند کرنے کی دھمکی، عالمی توانائی بحران کا خدشہ
وینس سے سوال ہوا کہ کیا وہ امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں؟ جس پر امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ ‘جی ہاں، اسرائیل یقینی طور پر اس معاملے میں زیادہ مؤثر ہے۔
واضح رہے کہ مارچ میں ایک سروے میں امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔
امریکی میڈیا کے ایک سروے کے مطابق صرف 32 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیںجبکہ 39 فیصد اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ یہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک بڑی تبدیلی ہے۔
اسرائیل کی حمایت میں سب سے بڑی کمی ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز میں دیکھی گئی۔ 2013 کے مقابلے میں اسرائیل کی حمایت 34 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد رہ گئی ہے۔خاص طور پر نوجوانوں میں اسرائیل کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے ممکنہ طور پر امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں اور اسرائیل کے بعض انٹیلی جنس عناصر سے روابط تھے۔
انٹرویو کے دوران جب میزبان نے کہا کہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایپسٹین کا تعلق موساد، سی آئی اے یا کسی اور خفیہ ادارے سے تھا، تو وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں حتمی رائے نہیں رکھتے، تاہم ان کے اپنے کچھ نظریات ضرور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج اتارنے پر غور، امریکی اخبار کا بڑا دعویٰ
موساد، سی آئی اے یا کوئی اور خفیہ ریاستی ادارہ، چاہے وہ امریکا کا ہو، اسرائیل کا یا کسی اور ملک کا، یہ واضح ہے کہ اس کے امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، اسی طرح اس کے اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے بھی تعلقات تھے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے اسرائیلی سیاست کے بائیں بازو سے زیادہ گہرے روابط تھے جب کہ امریکا میں ایپسٹین کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے بااثر افراد سے روابط تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایپسٹین اسرائیلی سیاست کے دائیں بازو کے مقابلے میں بائیں بازو کے حلقوں سے زیادہ قریب تھا۔
تاہم وینس نے یہ بھی کہا کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جو ایپسٹین کو براہ راست امریکی خفیہ اداروں یا کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی سے جوڑتی ہو۔
ایران کے حوالے سے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے، ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل اور غیر مؤثر بمباری کے سوا کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ نہیں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجےگا، اگر ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی فوج کے ایران پر نئے حملے، کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے
ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک قلیل مدتی مقصد تھا، امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں مہم پر بھاری رقم خرچ کی، غیر ملکی اثرورسوخ کی ایسی مہم کے باوجود وہ امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔




