ملک بھر میں 13 جولائی تک طوفانی بارشوں کی نئی پیشگوئی، کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کا الرٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں تیز بارش کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا ہے اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ بارش کے بعد مختلف علاقوں میں ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی ہیں جبکہ مقامی شہریوں نے گرم موسم میں آنے والی اس خوشگوار تبدیلی کو بھرپور طریقے سے سراہا ہے۔ اسی دوران محکمہ موسمیات نے ایک نیا اور انتہائی تشویشناک الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق 13 جولائی تک ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور آندھی کا نیا اور شدید سلسلہ متوقع ہے۔ بحیرہ عرب سے آنے والی مرطوب ہوائیں اور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ہفتے کی شام سے مزید شدت اختیار کر جائے گا، جس کے باعث پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، شمال مشرقی بلوچستان اور اب بالائی سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی موصلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بڑے شہروں میں شہری سیلاب اور نالوں میں طغیانی کا خطرہ:

نئے موسمی نظام کے تحت محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 11 اور 12 جولائی کو اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ اس لیے ان بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی اور حبس برقرار، چند مقامات پر بارش کا امکان

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے علاوہ لاہور اور مریدکے میں بھی موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے جہاں مریدکے میں شدید آندھی اور تیز بارش کے باعث متعدد بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ نے الرٹ جاری کیا ہے کہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے برساتی نالوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کے خدشات:

محکمے نے پہاڑی علاقوں کے لیے سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا، مری، گلیات، گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقوں میں شدید موسلادھار بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے سنگین واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ کو ان تمام حساس مقامات پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس نئے موسمی سلسلے میں تیز آندھی اور آسمانی بجلی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس طوفانی آندھی سے کمزور تعمیرات، بجلی کے کھمبوں اور اشتہاری بورڈز کے ساتھ ساتھ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پینلز کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مسافروں کے لیے سفری ایڈوائزری اور حبس کا خاتمہ:

موجودہ سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ موسمیات نے عام شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان دنوں بالائی اور پہاڑی علاقوں کی طرف غیر ضروری سفر سے مکمل طور پر گریز کریں۔ محکمے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچنے کے لیے سڑکوں پر نکلنے سے قبل موسم کی تازہ صورتحال سے لازمی باخبر رہیں۔

تاہم، اس طوفانی اور شدید بارشوں کے سلسلے کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان متوقع بارشوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ملک بھر میں طویل عرصے سے جاری شدید گرمی اور حبس کی شدت میں نمایاں کمی واقع ہو جائے گی، جس سے شہریوں کو روزمرہ کے گرم موسم سے بڑی راحت ملے گی۔

مزید پڑھیں: آج کن شہروں میں بارش ہوگی ؟ محکمۂ موسمیات نے پیشگوئی کر دی