سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر ، ایڈہاک ڈاکٹروں کو ہٹانے کا حکم معطل ، فریقین کو نوٹس جاری

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے محکمہ صحت میں ایڈہاک بنیادوں پر تعینات ڈاکٹروں کی تقرریوں کو کالعدم قرار دینے سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خالد یوسف چوہدری پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل کی ابتدائی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔

عدالت نے اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت تک ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ایک اہم فیصلے میں محکمہ صحت کے اندر ایڈہاک بنیادوں پر کی جانے والی ڈاکٹروں کی تقرریوں کو غیر قانونی اور قواعد و ضوابط کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ (کالعدم) کر دیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کو الیکشن سے بھاگنے نہیں دیں گے : شاہ غلام قادر کا اعلان
ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے درجنوں ڈاکٹروں کی ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی تھیں اور محکمہ صحت میں ایک انتظامی بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

اس فیصلے سے شدید متاثر ہونے والے ڈاکٹروں اور فریقین نے قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور اس کے خلاف اپیل دائر کی۔

متاثرہ فریقین کا موقف تھا کہ ان کی تقرریاں ناگزیر حالات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھیں اور ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں یکسر مسترد کرنا درست نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپیل کی ابتدائی سماعت کے بعد ڈاکٹروں کو عبوری ریلیف فراہم کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ فی الوقت معطل کر دیا ہے، جس سے ایڈہاک ڈاکٹروں کو عارضی طور پر بڑی راحت ملی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے عوام ترقی، خوشحالی و جمہوری استحکام کیلئے تیر کے نشان پر مہر لگائیں،شازیہ مری
اب اس کیس کی تفصیلی سماعت سپریم کورٹ میں ہوگی جہاں فریقین کے دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ صادر کیا جائے گا۔