کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اسٹیج سے مسلسل سامنے آنے والے متنازعہ مطالبات اور بیانات پر شدید عوامی ردعمل کے بعد تنظیم کے اندر شدید پھوٹ پڑ گئی ہے اور مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کے بعد کمیٹی کے اہم کور ممبر عمر نظیر کشمیری نے دیگر سرکردہ کور ممبران خواجہ مہران اور سردار امان کے حالیہ بیانات سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔
عمرنظیر کشمیری نے اپنے ایک بیان میں (نام لیے بغیر) سردار امان اور ان کے ساتھیوں کے بیانات کو تنظیم کی مسلمہ پالیسی کے خلاف قرار دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی گودی میڈیا اپنی کٹھ پتلی کالعدم ایکشن کمیٹی کو بچانے کیلئے میدان میں آگیا
انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اسٹیج کو اپنے ذاتی اور مخصوص تنظیمی نظریات کی تشہیرکیلئے استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایکشن کمیٹی کا تشخص شدید متاثر ہوا ہے اور وہ عوام میں متنازعہ بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کے اسٹیج سے ریاست اور قومی اداروں کے خلاف دیے جانے والے بیانات پر عام شہریوں اور سنجیدہ حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے بعد تنظیم کے اندرونی حلقوں میں بھی اس پر کھچاؤ پیدا ہو گیا۔
عمرنظیر کشمیری کا کہنا تھا کہ تحریک کے اصل مقاصد کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بانی ممبر، کونسلر شوکت سدوزئی کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان
سیاسی و عوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اہم کور ممبران کے درمیان پیدا ہونے والی یہ خلیج اور کھلم کھلا اختلافات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اب نظریاتی اور تنظیمی طور پر بکھراؤ کا شکار ہو چکی ہے اور عوامی سطح پر ہونیوالی پذیرائی اب شدید مخالفت اور ردعمل میں بدل رہی ہے۔




