مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر حکومت نے ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے سکیورٹی کی کمک کی بھاری طلب کر لی ہے۔
اس سلسلے میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے وفاقی وزارتِ داخلہ کو ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس کی نقول چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔
وفاق سے 4 ہزار کانسٹیبلری اہلکار اور رینجرز کے 7 ونگز کا مطالبہ:
سرکاری مراسلے کے مطابق آزاد کشمیر حکومت نے وفاق سے وفاقی کانسٹیبلری کے 4,000 اہلکار اور پاکستان رینجرز کے 7 ونگز فوری طور پر تعینات کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی عمل داری برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے یہ اضافی نفری ناگزیر ہو چکی ہے۔
حکومت نے سفارش کی ہے کہ طلب کردہ نفری کے 50 فیصد اہلکاروں کو اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس کیا جائے، جبکہ باقی 50 فیصد نفری کو ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے ضروری سازوسامان (Anti-Riot Gear) کے ساتھ بھیجا جائے۔
پونچھ، راولاکوٹ اور مظفرآباد میں صورتحال کشیدہ:
مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی پرتشدد سرگرمیوں سے ریاست گیر امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پونچھ اور راولاکوٹ میں مسلسل دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بُری طرح متاثر ہیں، جبکہ مظفرآباد اور میرپور میں بھی امن خراب کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔
پرتشدد واقعات میں 4 اہلکار شہید، 174 زخمی:
حکومت کے مطابق مظاہروں کے دوران مسلح عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان پرتشدد واقعات میں اب تک 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 174 شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ مزید برآں،کالعدم شرپسندوں کی جانب سے ضروری اشیائے خورونوش لے جانے والی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے وفاقی وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری اور ضروری سازوسامان کی فوری فراہمی اور تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔




