منگی ڈیم پوسٹ پمپنگ اسٹیشن 3پر دہشتگرد حملے کی تفصیلات سامنے آگئیں

منگی ڈیم پوسٹ پمپنگ اسٹیشن 3پر دہشتگرد حملے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں،یہ دہشت گرد حملہ یقیناً نہایت افسوسناک اور المناک تھا کیونکہ اس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا تاہم بلوچستان پولیس نے انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا۔

واقعے کے بعد ہمیشہ کی طرح مختلف عناصر اور امن دشمن حلقوں کی جانب سے گمراہ کن اور من گھڑت معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق درست ترتیب کے ساتھ سامنے لائے جائیں۔

6جولائی کی صبح پمپنگ اسٹیشن 3 پر تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل پولیس نفری، ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں تعینات تھی۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کا فیلڈ مارشل کے ہمراہ دورہ کوئٹہ،دہشتگرد نیٹ ورکس کوکچلنے کا عزم

انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے پہلے ہی خطرے کی اطلاع موصول ہونے کے باعث حال ہی میں اس نفری میں اضافہ کیا گیا تھا۔ قریب ترین فرنٹیئر کور (FC) کی چوکی تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی، جہاں تقریباً 20 اہلکار موجود تھے۔

اسی روز تقریباً صبح 11 بجے پمپنگ اسٹیشن کی چوکی سے دور فاصلے پر وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاع دی گئی چونکہ چوکی کو حال ہی میں بہتر افرادی قوت اور سازوسامان فراہم کیا گیا تھا، اس لیے وہاں موجود افسر نے اطلاع دی کہ موجودہ نفری دفاع کے لیے کافی ہے۔

اہلکار اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے جبکہ پولیس ہیڈکوارٹر اور ایف سی ونگ مسلسل رابطے میں رہے۔

احتیاطی اقدام کے طور پر پولیس ہیڈکوارٹر نے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ کمک کے لیے روانہ کیا۔ اس کے علاوہ فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک مسلح ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیا، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک علاقے میں موجود رہا۔

دہشت گردوں کا مقصد وقفے وقفے سے فائرنگ کر کے چوکی پر موجود اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ گولہ بارود استعمال کرنے پر مجبور کرنا تھا، اور شام تک واقعی چوکی کا زیادہ تر اسلحہ اور گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا۔

جب کمک کا دستہ چوکی کے قریب پہنچا تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے باعث وہ کچھ فاصلے پر رک گیا۔ اسی دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل (VTOL) طیاروں اور مارٹر فائر کی مدد سے کارروائی کی، جس کی آڑ میں کمک آگے بڑھتی رہی۔

سورج غروب ہونے کے بعد دہشت گردوں نے براہِ راست حملہ کر دیا اور چوکی تک پہنچ گئے۔ چوکی پر موجود بہادر پولیس اہلکاروں اور آگے بڑھتی ہوئی پولیس و ایف سی کی کمک کے درمیان ہونے والی شدید لڑائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 9 بہادر پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے، جنہیں بعد میں ایف سی اور پولیس کی کمک پہنچنے پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

چونکہ چوکی کا گولہ بارود ختم ہو چکا تھا، اس لیے باقی اہلکار (ڈی ایس پی سمیت 28 پولیس اہلکار) نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں میں وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ان دو گروپوں میں سے ڈی ایس پی کی قیادت والا گروپ محفوظ نکلنے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ دوسرے گروپ کے 18 اہلکار رات کے وقت دہشت گردوں سے جا ٹکرائے اور مبینہ طور پر یرغمال بنا لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، ڈی جی آئی ایس پی آر

علاقے کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار ہے، جہاں بلند پہاڑ، گہری گھاٹیاں اور چٹانی دراڑیں موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں لڑائی صرف قریب سے ممکن ہوتی ہے جبکہ نگرانی بھی انتہائی محدود رہتی ہے۔ ایف سی اور پولیس کو مسلسل فائرنگ اور ممکنہ گھات کے خطرے کے باعث انتہائی احتیاط سے پیش قدمی کرنا پڑی۔

ایف سی اور پاک فوج پورے علاقے میں، جو تقریباً 300 مربع کلومیٹر پر مشتمل دشوار گزار پہاڑی خطہ ہے، جامع سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان کے مطابق اب تک مزید 8 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

اسی دوران مختلف سیاسی مفادات رکھنے والے حلقے اپنے اپنے بیانیے پھیلا رہے ہیں۔ اس بیان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پولیس چوکی نے اپنی پوری استطاعت کے مطابق مزاحمت کی، ایف سی اور پولیس کی کمک نے جرأت اور تیزی سے پیش قدمی کی، اور تمام اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا، جس پر پوری قوم کو ہمیشہ فخر اور ان کی قربانیوں پر احسان مند رہنا چاہیے۔