ایران کے شہر مشہد میں ایران کے سپریم لیڈر کی نمازجنازہ اداکردی گئی ہے اور اسی دوران ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس، چغادک اور کنارک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم فوری طور پر ان واقعات کی وجوہات، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب
ایران کے مختلف شہروں میں جمعرات کو یکے بعد دیگرے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتِ حال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ اور قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی صوبے بوشہر میں واقع ایران کے ایٹمی پلانٹ کے اطراف اور قریبی شہر چغادک میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
رپورٹ میں دھماکوں کی نوعیت، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
اسی دوران مہر نیوز نے اطلاع دی کہ بندر عباس کے رہائشیوں نے بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ بندر عباس ایران کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور خلیج فارس میں تجارتی اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔
بعد ازاں ایرانی میڈیا نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ساحلی شہر کنارک میں بھی تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی۔ کنارک خلیج عمان کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور ایران کی مکران ساحلی پٹی میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی چھوٹ ختم، ایران کا کروڑوں بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا
دھماکوں کے بعد سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر مختلف دعوے سامنے آئے، تاہم ایرانی حکام نے تاحال ان واقعات کی وجوہات یا نوعیت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان فوجی تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج فارس کے اطراف سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔




