نیشنل جوڈیشل کمیٹی کے زیرِ اہتمام سپریم کورٹ آف پاکستان میں ‘قومی کانفرنس برائے اصلاحاتِ جیل’ کا انعقاد

اسلام آباد/مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے چیف جسٹس سپریم کورٹ، جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقدہ ایک اہم قومی کانفرنس برائے ‘اصلاحاتِ جیل’ میں شرکت کی ہے۔ یہ اعلیٰ سطح کی کانفرنس نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی تھی۔

کانفرنس میں ملک بھر سے اعلیٰ عدالتی، حکومتی اور انتظامی حکام نے شرکت کی، جہاں جیل اصلاحات، قیدیوں کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور جیل انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا گیا۔

کانفرنس کی صدارت اور اعلیٰ حکام کی شرکت:

قومی کانفرنس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔ اس اہم موقع پر وفاقی وزیرِ قانون و انصاف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اور چاروں صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی شرکت کی۔ ان کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام، محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کی اہم شخصیات نے بھی اس اجلاس میں حصہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ توہین عدالت کیس:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مظفرآباد معطل

زیرِ بحث آنے والے اہم امور:

کانفرنس کے دوران ملک کے موجودہ نظامِ جیل کو درپیش مختلف چیلنجز، قیدیوں کی فلاح و بہبود، اور اصلاحی و بحالی پروگراموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، خواتین، بچوں اور خصوصی افراد (معذوروں) کے لیے جیلوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی، عدالتی اصلاحات، اور جیل انتظامیہ کی استعداد کار (Work Capacity) کو بڑھانے جیسے اہم امور بھی زیرِ غور آئے۔

مربوط تعاون اور مشترکہ اعلامیہ:

کانفرنس کے شرکاء نے اس اہم نقطے پر مکمل اتفاق کیا کہ جیلوں کو محض سزا کے مراکز کے بجائے اب اصلاح و بحالی کے مؤثر اداروں میں تبدیل کرنا ہو گا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مربوط تعاون، جدید انتظامی نظام، قانونی اصلاحات اور مؤثر پالیسی سازی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

اور پڑھیں: این-25 ہائی وے پر بڑی کارروائی: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 دہشت گرد ہلاک، 3 اہلکار شہید

قومی کانفرنس کے اختتام پر جیل اصلاحات سے متعلق ایک ‘مشترکہ اعلامیہ’ بھی منظور کیا گیا۔ اس اعلامیے میں جیل کے نظام میں مؤثر، مربوط اور پائیدار اصلاحات نافذ کرنے، قیدیوں کے بنیادی حقوق کا ہر صورت تحفظ کرنے، بحالی کے پروگراموں کو مزید وسعت دینے اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے اس پورے اصلاحاتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف رجسٹریشن کیس: سپریم کورٹ کا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پی ایل اے کے ہمراہ سننے کا حکم