شفقت، محبت اور رحم دلی کے عظیم پیکر، اور انسانیت کے سچے خادم عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے ایک دہائی (10 سال) بیت گئی ہے۔ انہوں نے بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب، ہمیشہ ہر مجبور انسان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، زندگی بھر محبت بانٹی اور ہمیشہ دوسروں کے غم میں برابر کے شریک رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یادیں اور ان کا سکھایا ہوا خدمتِ خلق کا درس آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔
روزمرہ زندگی میں غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کا نام کثرت سے سنا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے معاشرے میں ایک بڑا تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ایسی تنظیمیں چلانے والے زیادہ تر لوگ مخیر حضرات کی طرف سے ملنے والے چندے اور عطیات سے اپنی ہی جیبیں بھر لیتے ہیں اور کچھ ہی عرصے میں ذاتی طور پر مالدار بن جاتے ہیں۔ تاہم، اگر خیراتی کاموں میں شفافیت اور دیانت داری کے اصل معیار کی بات کی جائے، تو اس کے تحت امداد میں ملنے والی تمام رقم اور عطیات کا ایک ایک روپیہ صرف اور صرف اصل مستحقین پر ہی خرچ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی افواہیں: پاکستان تحریک انصاف کا وضاحتی اعلامیہ جاری
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں ایسے ادارے کام کر رہے ہیں جو خیراتی ہسپتالوں، یتیم خانوں، فری کچن (لنگر خانوں) اور فری ایمبولینس سروس کے نام پر مستحقین کی مدد کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن اگر ملکی سطح پر دیکھا جائے تو یہ منفرد اعزاز صرف اور صرف ‘ایدھی فاؤنڈیشن’ کو حاصل ہے، جس کے ملک بھر میں 350 سے زائد مراکز قائم ہیں۔ ان مراکز کے تحت نہ صرف غریبوں اور مستحقین کی مالی امداد کی جاتی ہے بلکہ بے گھر اور بے سہارا افراد کو چھت (شیلٹر ہوم) بھی فراہم کی جاتی ہے۔
ایدھی مراکز کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں گھروں سے ناراض ہو کر بھاگنے والے یا بچھڑ جانے والے بچوں کو نہ صرف اپنے بچوں کی طرح رکھا اور پڑھایا لکھایا جاتا ہے، بلکہ جوان ہونے پر انہیں باعزت روزگار بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایدھی سینٹر میں ہی پرورش پا کر جوان ہونے والی بے سہارا لڑکیوں کی شادیاں بھی انتہائی باوقار انداز میں فاؤنڈیشن کی جانب سے کی جاتی ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن سالہا سال کی انتھک محنت، لگن اور دیانت داری کے باعث کامیابی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ اگرچہ آج انسانیت کے عظیم علمبردار اور فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی خود ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے فیصل ایدھی اپنے والد کے اسی عظیم مشن اور انسانیت کی خدمت کے سفر کو پوری کامیابی، شفافیت اور اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔




