پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود مارکیٹ میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی، جس کے باعث شہریوں اور دکانداروں کی پریشانی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے اور خریدار دکانوں پر دہائیاں دینے پر مجبور ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، ماضی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ملز مالکان نے گھی اور آئل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا۔ تاہم، اب پٹرول سستا ہونے کے باوجود درجہ اول اور درجہ دوم کے گھی و کوکنگ آئل کی قیمتیں کم نہیں کی جا رہیں۔
قیمتوں کا تقابلی جائزہ اور ملز مالکان کا جواز:
فیول پرائسز میں اضافے سے قبل مارکیٹ میں درجہ اول گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت 560 روپے فی کلو تھی، جو ملز مالکان کی جانب سے فیول لاگت بڑھنے کا جواز پیش کیے جانے کے بعد 50 روپے کے بھاری اضافے کے ساتھ اب 610 روپے فی کلو/لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح مارکیٹ میں درجہ دوم گھی اور آئل کی قیمت بھی 550 روپے فی کلو کی بلند سطح پر برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ،16 کلو کنستر 400 روپے مہنگا
کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کا مؤقف اور حکومت سے مطالبہ:
صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن ثقلین بٹ کے مطابق، ملز مالکان نے پٹرول کی قیمت بڑھنے پر گھی اور آئل کے دام فوری طور پر بڑھا دیے تھے، لیکن اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فائدہ عام صارفین تک منتقل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھی اور آئل روزمرہ استعمال کی بنیادی ترین اشیاء ہیں اور ان کی قیمتوں میں یہ غیر ضروری اضافہ براہ راست عام آدمی کے کچن بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
ثقلین بٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آئل و گھی ملز مالکان کی اس اجارہ داری (Monopoly) کا فوری خاتمہ کیا جائے اور قیمتوں میں کمی کو حکومتی سطح پر یقینی بنایا جائے تاکہ مہنگائی کے پسے ہوئے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔




