اوورسیز کشمیری سٹیک ہولڈرز نہیں،آزادکشمیر کے معاملات میں مداخلت سے باز رہیں ،ماریہ اقبال ترانہ

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل ) آزادکشمیر کی سیاسی رہنما اور مسئلہ کشمیر کی آواز ماریہ اقبال ترانہ نے کشمیرڈیجیٹل کے پروگرام میں اینکر سعد ذوالفقار خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے آزادکشمیر کے آئین، پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر وکالت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جو انتہائی افسوسناک امر ہے ۔

ماریہ اقبال ترانہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادکشمیر میں انتشار اس حد تک بڑھ چکا ہے جو پاکستان سے محبت کرنیوالے ہیں وہ بھی خوف کے سائےمیں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، پرامن خطے کو سازش کے تحت انتشار کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چیف سیکرٹری آزادکشمیر کی زیرصدارت اہم اجلاس،سکیورٹی،انتخابی مواد کی ترسیل کا جائزہ

اینکر سعد ذوالفقار خان کے ایک سوال کہ آپ کو سہولتکار بن کر کیسا لگ رہا ہے؟ تو ماریہ اقبال ترانہ نے کہا کہ ہاں الحمداللہ میں پاکستان کی سہولتکار ہوں، بھارت اور اسرائیل کی نہیں،جو مجمع لگا کر بیٹھے ہیں انہیں پوچھیں کہ ان کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے؟

ماریہ اقبال ترانہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وبربیت کودیکھیں ، مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے پوچھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں کتنا بڑا فرق ہے ۔ یہاں کے شہری آزاد زندگی گزار رہے ہیں ، پاکستان میں فرسٹ سٹیزن کی حیثیت حاصل ہے ۔
ایک سوال کہ بیرون ممالک میں اوورسیز کشمیری بھی آزادکشمیر میں ہونیوالے احتجاج کی حمایت میں سراپا احتجاج ہیں اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت کررہے ہیں تو کیا آپ نہیں سمجھتی کہ یہ عوامی حقوق کی جنگ ہے ۔

اس پر ماریہ اقبال ترانہ نے جواب دیا کہ اورسیز کشمیری ہمارے سٹیک ہولڈرز نہیں ، آزادکشمیر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اب بیرون ملک اپنے کاروبار اور اپنی زندگیوں کو پرامن طریقے سے گزار رہے ہیں ۔ ان کا احتجاج آزادکشمیر میں مزید انتشار کا سبب بن رہا ہے ۔
ماریہ اقبال ترانہ کا مزید کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کی حمایت کرنیوالے عمران ریاض، صابر شاکرملک دشمن ہیں جوپہلے سے ہی پاکستان کے نوجوانوں کو ملک کیخلاف گمراہ کیا اور اب کشمیر کے ہمدرد بن گئے۔

ماریہ اقبال ترانہ کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور آزادکشمیر کیخلاف پروپیگنڈہ ، مودی کو بھی دعوت دی جارہی ہے ،یہ سب کیا ہے؟یہی تو انتشار کی اصل وجہ ہے کہ بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے اس وقت خطے میں انتشار کا باعث بن رہے ہیں ۔

ماریہ اقبال ترانہ کا مزید کہنا تھا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں  آٹا ، بجلی ، چینی سبسڈی کے نقاط شامل کئے تھے اب اسمبلی کی 12نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کہاں سے آگیا ؟جب حکومت نے آٹا سستا کردیا، بجلی تین روپے کردی ، ہر چیز سستی میسر ہے تو اب یہ مزید کس چیز کی ڈیمانڈ کررہے ہیں ۔