مخلص ساتھیوں سے بے وفائی ،سردار افتخار رشید پیپلزپارٹی قیادت پر سخت برہم

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق مشیر وزیراعظم آزادکشمیر،استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنماسردار افتخار رشید نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جب بھی اقتدار یا مفاد کی سیاست کی اپنے مخلص اور بااثر ساتھیوں کو قربانی کا بکرا بنایا۔

غازیٔ ملت کو نظرانداز کیا گیا تو انہوں نے اپنی راہ الگ کر لی تھی، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ سیاسی وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو انہوں نے نئی سیاسی جدوجہد کا آغاز کردیا تھا اور آج ایک بار پھر وہی تاریخ سردار تنویر الیاس خان کے ساتھ دہرائی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:انتخابی عمل مقررہ شیڈول کے مطابق کامیابی سے مکمل کرینگے،چیف الیکشن کمشنر

انہوں نے کہا کہ جماعت کی سیاسی تاریخ اپنے محسنوں، مخلص ساتھیوں اور بااثر رہنماؤں سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور بے وفائی کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

انہوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ماضی میں غازیٔ ملت کو نظرانداز کیا گیا، بعد ازاں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ کیے گئے سیاسی وعدے پورے نہ کیے گئے

سردار افتخار رشید نے کہا کہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کے ساتھ بھی وہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ پیپلز پارٹی قیادت شاید یہ بھول گئی کہ اس بار ان کا سامنا ایک ایسے سیاسی رہنما سے ہے جس نے مختصر وقت میں آزاد کشمیر کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔

سردار افتخار رشید کا مزید کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی کو دوبارہ متحرک کرنا اور متعدد انتخابی حلقوں میں امیدوار میدان میں لانے کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ سردار تنویر الیاس خان عوامی حمایت، سیاسی بصیرت اور مضبوط قیادت کی بدولت اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں ۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:انتخابی مہم شروع،مہاجرین کو مائنس نہیں کیاجاسکتایہ پاکستان کا مقدمہ ہے،سعد رفیق

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سردار تنویر الیاس خان کو سیاسی طور پر کمزور سمجھنے کی کوشش کی، وہ اپنی اس غلط فہمی کی سیاسی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ عوام ہر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور تاریخ بھی سیاسی کرداروں کے فیصلوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔

سردار افتخار رشید نے مزید کہا کہ آنے والے انتخابات محض اقتدار یا نشستوں کا مقابلہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ وفاداری اور بے وفائی، اصول اور مفاد، عوامی اعتماد اور سیاسی طرزِ عمل کے درمیان ایک فیصلہ کن امتحان ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا فیصلہ ہی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔