یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد نام بھی تبدیل ، بڑا فیصلہ کر لیا گیا

یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی ٹیلی کام کمپنی کی انتظامیہ نے کمپنی کی ری برانڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس نئی برانڈ شناخت کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی حتمی منظوری کے بعد ٹیلی نار پاکستان کو باضابطہ طور پر پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ میں ضم کر دیا گیا، جو یوفون کا قانونی نام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلی نار کا انتظام سنبھال لیا

نئی کمپنی کے لیے ای اینڈ کے نام پر غور کیا جارہا ہے جو متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی اتصالات کی نئی برانڈ شناخت ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نئی برانڈنگ کی منظوری کے لیے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے ضم شدہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق نوٹیفکیشن طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل بیلنس کٹوتی سے بچنے کا آسان ترین طریقہ جانیے

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ایس ای سی پی کی منظوری کے بغیر نئی برانڈنگ یا تشہیری مہم شروع نہیں کی جاسکتی۔

دوسری جانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک سینئر عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ای اینڈ نام اختیار کرنے پر قانونی اعتراضات سامنے آسکتے ہیں، کیونکہ پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ بدستور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نہ کہ براہِ راست اتصالات کے ماتحت ادارہ۔

یہ بھی پڑھیں: بینکوں اور ٹیلی کام کمپنیوں کی بڑی لوٹ مار پکڑی گئی: 2 پیسے کا ایس ایم ایس 3 روپے سے زائد میں فروخت کرنے کاانکشاف

عہدیدار کے مطابق اگر نئی کمپنی یہی برانڈ نام اختیار کرتی ہے تو اسے بین الاقوامی برانڈ کے حقوق سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے یا ممکنہ طور پر اتصالات کو رائلٹی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔