83 سالہ خاتون نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کردیا

مصر کی معمر خاتون نے مشہور کہاوت علم حاصل کرنے کے لیے عمر اور وقت کی کوئی قید نہیں کو حقیقی زندگی میں ثابت کر دکھایا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 83 سالہ مصری خاتون نے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:2026میں کونسی ڈگریاں رکھنے والوں کو زیادہ نوکریاں ملیں گی؟

مصر سے تعلق رکھنے والی 83 سالہ اَمل اسماعیل عبدو نے منصورہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس سے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے استقامت، حوصلے اور عزم کی شاندار مثال قائم کر دی۔

5 جولائی کو اَمل عبدو کو شعبۂ سوشیالوجی، فیکلٹی آف آرٹس منصورہ یونیورسٹی کی جانب سے ان کے تحقیقی مقالے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اَمل عبدو کا تعلیمی سفر زندگی کے نسبتاً آخری حصے میں شروع ہوا۔ انہوں نے 38 سال کی عمر میں مڈل کا امتحان پاس کیا، تاہم کینسر کی تشخیص کے باعث تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

بیماری سے صحتیاب ہونے کے بعد انہوں نے دوبارہ تعلیم کا آغاز کیا اور 68 سال کی عمر میں ہائی اسکول مکمل کیا۔ اس کے3 سال بعد انہوں نے منصورہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف آرٹس میں شعبۂ سوشیالوجی میں داخلہ لیا۔

سال 2023 میں انہوں نے اسی ادارے سے امتیازی نمبروں کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد پی ایچ ڈی کا سفر جاری رکھا۔

6 جولائی کو صوبہ دقہلیہ کے گورنر میجر جنرل طارق مرزوق نے گورنریٹ ہیڈکوارٹرز میں اَمل عبدو سے ملاقات کر کے ان کی اس شاندار کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اعزاز ان کی غیر معمولی جدوجہد اور زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے اعتراف میں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں سب سے پہلی گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنیوالی خاتون انتقال کر گئیں

گورنر نے اَمل عبدو کو گورنریٹ کی شیلڈ پیش کی اور کہا کہ ان کی کامیابی علم، عزم اور ثابت قدمی کی اقدار کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اَمل عبدو کی مثال نوجوان نسل کے لیے امید کا پیغام ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ عمر کبھی بھی خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

اس موقع پر 83 سالہ اَمل نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کی جانب سے ملنے والا یہ اعزاز ان کے لیے حوصلے کا بڑا ذریعہ ہے اور ان تمام افراد کے لیے پیغام ہے جو عمر یا حالات کی پروا کیے بغیر اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔