ہٹیاں بالا/جہلم ویلی:آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے تناظر میں حلقہ 7 جہلم ویلی کی سیاست میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنا مہنگا پڑ گیا ہے، جس کے بعد حلقے کے سینئر رہنماؤں کا پارٹی چھوڑنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق رہنماؤں کی مسلسل علیحدگی کے باعث دیوان چغتائی کی پوزیشن حلقہ 7 میں دن بدن کمزور ہونے لگی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، دیوان علی خان چغتائی کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ ملنے کے بعد 35 سالہ طویل وابستگی کے باوجود ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کونسل سید شفیق کاظمی نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس بڑے دھچکے کے بعد اب ممبر ضلع کونسل جہلم ویلی چوہدری عبدالجبار ایڈووکیٹ نے بھی پیپلز پارٹی کو اللہ حافظ کہہ دیا ہے۔ چوہدری عبدالجبار ایڈووکیٹ نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے فوری بعد آئی پی پی کی قیادت نے انہیں حلقہ 7 جہلم ویلی سے اپنا باقاعدہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع میرپور کے چاروں حلقوں کی نئی انتخابی فہرستیں جاری، کل ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنز کی مکمل تفصیلات سامنے آ گئیں
حلقہ 7 جہلم ویلی میں کانٹے دار مقابلے کی توقع:
چوہدری عبدالجبار ایڈووکیٹ کی آئی پی پی میں شمولیت کے بعد اب حلقہ 7 جہلم ویلی میں سیاسی دنگل انتہائی دلچسپ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اس حلقے میں اب پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار دیوان علی خان چغتائی، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار و موجودہ ممبر اسمبلی چوہدری رشید، آئی پی پی کے امیدوار چوہدری عبدالجبار ایڈووکیٹ اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے امیدوار گوہر زمان عباسی ایڈووکیٹ کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
مسلم کانفرنس میں بھی بغاوت؛ سید غلام نبی شاہ آزاد امیدوار بن گئے:
دوسری جانب، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو بھی حلقے میں اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ پارٹی قیادت نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر (مرحوم) سردار عبدالقیوم خان کے انتہائی قریبی اور دیرینہ ساتھی سید غلام نبی شاہ کو اس بار بھی حلقہ 6 اور حلقہ 7 کا ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ مسلم کانفرنسی رہنما سید غلام نبی شاہ نے دونوں حلقوں (حلقہ 6 اور حلقہ 7 جہلم ویلی) سے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اب آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں، جس سے روایتی جماعتوں کے ووٹ بینک کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان ہے۔




