تہران میں ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا، فضا سوگوار

تہران:ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تہران میں نمازِ جنازہ انتہائی رقت آمیز ماحول میں ادا کر دی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر تہران میں فضا انتہائی سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار دکھائی دی۔

رپورٹ کے مطابق شہید سپریم لیڈر کے ساتھ ساتھ ان کی صاحبزادی، بہو، داماد اور معصوم نواسی کی بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ کے اس بڑے اجتماع میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر تہران کے امام خمینی مصلیٰ سینٹر کے باہر لاکھوں افراد کا سمندر موجود تھا جو اپنے محبوب قائد کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہوا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ روز شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی تھیں جہاں عوام کی بڑی تعداد نے ان کا آخری دیدار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: خامنہ ای کی آخری رسومات دیکھ کر حیران ہوں،چاہتے تو سب کو نشانہ بنا سکتے تھے، امریکی صدر

تدفین اور دیگر شہروں میں تقاریب کا شیڈول:

حکام کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی 7 جولائی کو تہران سے قم منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد 8 جولائی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی تعزیتی تقاریب شیڈول کی گئی ہیں، جبکہ شہید سپریم لیڈر کو 9 جولائی کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں برس 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ اس اچانک قومی سانحے کے سبب محض ایک ہفتے کے اندر یعنی 8 مارچ کو ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا، تاہم ملکی و علاقائی حالات کے باعث شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین عمل میں نہیں لائی گئی تھی اور اب ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر:

آیت اللہ علی خامنہ ای کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ایران میں شاہ کی بادشاہت کے خلاف طویل جدوجہد کی اور اس پاداش میں انہیں کئی بار جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے انقلابِ ایران کے وقت انتہائی مرکزی اور تاریخی کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع، زائرین کے لیے ہزاروں اسکولوں کے دروازے کھول دیے گئے

سال 1981 میں وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے اور ملک کا نظم و نسق سنبھالا۔ بعد ازاں، 1989 میں انقلابِ ایران کے بانی امام خمینی کی وفات کے بعد انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر (رہبرِ اعلیٰ) کی اہم ترین ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ وہ مسلسل اپنی شہادت تک اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہ کر ملک و ملت کی رہنمائی کرتے رہے۔ بالآخر 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے کئی افراد سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے۔