آزاد جموں و کشمیر کی سیاست اور موجودہ صورتحال سے متعلق ایک انتہائی اہم اور واضح ترین سیاسی منظرنامہ سامنے آیا ہے، جہاں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی نام نہاد “تحریک” اب مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔ یہ مہم نہ صرف اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر ناکام ہوئی ہے بلکہ خطے کے غیور عوام نے اپنے اجتماعی فیصلے سے اسے بری طرح مسترد کر دیا ہے۔ اب حقائق سے نظریں چرانے کا وقت پوری طرح گزر چکا ہے کیونکہ یہ کوئی عوامی انقلاب نہیں تھا بلکہ خطے میں انتشار، افراتفری پھیلانے اور عام عوام کو یرغمال بنانے کی ایک ناکام کوشش تھی، جسے شعورِ عوام نے ناکام بنا دیا۔
عوام نے فساد اور ہڑتالوں کی اس مخصوص سیاست کو اب پوری طرح پہچان لیا ہے اور تمام فریقین کو یہ صاف اور دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ انہیں پہیہ جام ہڑتالیں، شٹ ڈاؤن، بندشیں اور کاروبار کی تباہی کسی صورت منظور نہیں، بلکہ وہ صرف اور صرف امن، استحکام، معمولاتِ زندگی کی بحالی اور معاشی ترقی چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن کمیشن، 24 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ
بازار کھل گئے، رونقیں بحال اور معمولاتِ زندگی کی واپسی:
آج آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بازار مکمل طور پر کھلے ہیں، دکانیں آباد ہیں اور کاروباری سرگرمیاں اپنے روایتی معمول پر آ چکی ہیں۔ تجارتی مراکز کا اس طرح ہڑتالوں کو مسترد کر کے دوبارہ کھلنا اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہے کہ عوام نے کسی بھی قسم کے بیرونی یا داخلی دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے پرامن مستقبل کا فیصلہ خود اپنے ہاتھوں سے کیا۔
آج خطے کا عام شہری یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ وہ نام نہاد تحریک، بلند و بانگ دعوے، شور شرابا اور دھمکیاں اب کہاں گئیں؟ اس کا جواب اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ عوام نے ان تمام عناصر کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ جو لوگ خود کو عوام کا اکلوتا نمائندہ اور ہمدرد سمجھتے تھے، خطے کے شعور یافتہ عوام نے انہیں مسترد کر کے زمین پر پٹخ دیا ہے اور افواہوں کا بازار اب بند ہو چکا ہے۔
الیکشن کی الٹی گنتی شروع: اب فضا میں صرف انتخابات کی گونج:
نام نہاد تحریک کے غبارے سے ہوا نکلنے کے بعد اب آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کی الٹی گنتی باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہے۔ اس وقت خطے کی فضا میں افواہوں یا ہڑتالوں کے بجائے صرف ایک ہی موضوع پوری قوت سے گونج رہا ہے اور وہ ہے “انتخابات”۔ تمام حلقوں میں انتخابی گہما گہمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، اور عوام پوری یکسوئی اور قوت کے ساتھ اپنے جمہوری و آئینی حقِ رائے دہی (ووٹ) کے استعمال کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس پورے منظرنامے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اب سڑکوں کے شور شرابے یا دھرنوں سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف بیلٹ باکس اور ووٹ کی حقیقی طاقت سے ہوگا۔




