عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے سونے کی قیمتوں سے متعلق اپنی اہم ترین پیشگوئی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے دوران سونے کی عالمی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اس قیمت میں تیزی کا رجحان محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں قیمتوں کے تغیر و تبدل پر ٹک گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمت زیادہ سے زیادہ تیسری سہ ماہی میں 4,300 ڈالر فی اونس جبکہ چوتھی سہ ماہی میں 4,500 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔ بینک کا اپنے تجزیے میں کہنا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں سونے کی طلب برقرار ہے، لیکن یہ طلب اس سطح تک مضبوط نہیں رہی جتنی پہلے توقع کی جا رہی تھی، جس کے باعث قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ محدود رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا مہنگا!فی تولہ سونا 9,100 روپے مہنگا
امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلے اور سونے پر اثرات:
جے پی مورگن نے اپنی رپورٹ میں اس اہم نکتے پر بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آنے والے معاشی اعداد و شمار مضبوط ثابت ہوتے ہیں تو شرحِ سود میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرحِ سود میں اضافہ عام طور پر سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کے لیے منفی اثرات کا حامل ہوتا ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم، طویل مدتی منظرنامے کو دیکھا جائے تو بینک نے سونے کے مستقبل کے حوالے سے اپنا مثبت نقطہ نظر برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2027 میں مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور عالمی طلب میں مجموعی اضافے کے باعث سونے کی قیمتوں میں دوبارہ نمایاں بہتری اور تیزی دیکھنے کا قوی امکان ہے۔
چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کے نرخ بھی سامنے آ گئے:
جے پی مورگن نے سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کے حوالے سے بھی اپنی اہم پیشگوئیاں جاری کی ہیں۔ ان پیشگوئیوں کے مطابق عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 60 سے 65 ڈالر فی اونس کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، فی تولہ سونا یکدم 5200 روپے سستا ہو گیا
اس کے ساتھ ساتھ صنعتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں اہم سمجھی جانے والی دھات پلاٹینم کی قیمت 1,800 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 1,300 سے 1,350 ڈالر فی اونس کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ان پیشگوئیوں کے بعد عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کے کاروبار سے جڑے حلقوں میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔




