سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی و علاج سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا،

سپریم کورٹ آف پاکستان کاعمران خان کو ان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں حکم دیا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کیلیے 2 روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ان کا مکمل طبی ریکارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس پیش کی جائیں

مزید یہ بھی پڑھیں:سردار عتیق خان کا یوم نیلہ بٹ تقریب میں آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے اعلان کا فیصلہ

علاج کیلیے نسخوں اور ڈاکٹرز کی آرا پیش کی جائیں، سابق وزیر اعظم کی گرفتاری سے اب تک تمام طبی معائنے، ٹیسٹ اور علاج کی تفصیلات جمع کروائی جائیں۔

حکم نامے میں عدالت نے عمران خان سے گزشتہ 3 ماہ میں اہلخانہ اور وکلا کی ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات اور ان کے خلاف زیر سماعت، زیر التوا اور جن مقدمات میں سزا ہو چکی ہے، تمام کی تفصیلات طلب کر لیں۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کیلیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراض قلب، ماہر امراض چشم اور ماہر داخلی طب شامل ہوں گے

، ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی معائنے اور علاج میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی، علاج اور سہولتوں کے اخراجات عمران خان یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات ختم، میڈیا سے گفتگو کرنے سے انکار

تحریری حکم نامے میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا اور اہلخانہ، سیاسی جماعت یا وکلا کو ان کی صحت کی صورتحال شیئر کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے صحت کی معلومات کو سیاسی فائدے کیلیے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے قیام کے دوران کسی عوامی اجتماع کی اجازت نہیں۔

سپریم کورٹ نے حکم کی خلاف ورزی پر فراہم کردہ سہولیات فوری واپس لینے کی تنبیہ کر دی۔