بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کو خوش کرنے اور اس کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔
مودی حکومت کے اس فیصلے کا براہ راست مقصد تل ابیب کو یہ باور کرانا ہے کہ بھارت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
بھارت کی اسرائیل کیساتھ قربتیں اور ایران کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار کردیا ۔
بھارت نے ایران کے سپریم لیڈر شہید آیت خامنہ ای کی تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے کوئی اعلیٰ سطحی سرکاری وفد ایران نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر شہید آیت خامنہ ای کی تدفین کے حوالے سے رسومات جاری ہیں، جن میں شرکت کے لیے مصر، قطر، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے وفود تہران میں موجود ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:معروف سکالر ناصر مدنی خطبہ جمعہ کے دوران بے ہوش، ہسپتال منتقل
بھارتی میڈیاکے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی خطے میں اپنی اسٹریٹجی پالیسی تبدیل کررہے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ اپنی قریبی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا بیک وقت انتظام کیا جارہا ہے۔
دی وائر نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا فیصلہ ہندوستان کی ایران سے بڑھتی ہوئی دوری کی انتہا ہے، یہ ایک ایسا رجحان ہے جو ہندوستان کا اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت آج پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرنے جا رہی ہے
دی وائر نے مزید کہا کہ جبکہ نئی دہلی اب بھی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اسرائیل کیساتھ کثیرالطرفہ اصول پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔
مودی حکومت نے اس سٹریٹیجی کے تحت اسرائیل کا انتخاب کیا ہے، ایسے انتخاب سے آئندہ چند ماہ میں سیاسی اور جغرافیائی مضمرات بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں




