نجی تعلیمی ادارے 90دن میں رہائشی عمارتیں خالی کریں، ہائیکورٹ آزادکشمیر کا حکم

میرپور(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں آزاد کشمیر بھر میں رہائشی عمارتوں میں قائم تمام نجی اسکولوں اور کالجوں کو 90 دن کے اندر عمارتیں خالی کرنے کا حکم دے دیا ۔

ہائیکورٹ کے سرکٹ بنچ میرپور کے جج جسٹس خالد رشید چوہدری نے مقدمہ “صاحبزادہ قربان علی بنام میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) و دیگر” کی سماعت کی ۔،

مزید یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کی خوشی کیلئے بھارتی وزیراعظم مودی کا آیت اللہ خامنائی کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار

جسٹس خالد رشید چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ تعلیم، ہائر ایجوکیشن حکام اور حکومت آزاد کشمیر کے متعلقہ انتظامی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ریاست بھر میں رہائشی عمارتوں میں قائم تمام نجی و کمرشل تعلیمی اداروں کو 90 روز کے اندر وہاں سے منتقل کرائیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تمام سرکاری اداروں اور متعلقہ حکام کو یہ بھی حکم دیا کہ نجی رہائشی عمارتوں میں قائم نجی اسکولوں اور کالجوں کو فوری طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق خالی کرایا جائے۔

درخواست گزار صاحبزادہ قربان علی کی جانب سے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے سینئر قانون دان ایڈووکیٹ اورنگزیب چوہدری پیش ہوئے، جبکہ نجی فریقین نمبر 21 اور 22 سمیت قاضی زاہد حسین و دیگر کی جانب سے چوہدری الطاف ایڈووکیٹ نے وکالت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معروف سکالر ناصر مدنی خطبہ جمعہ کے دوران بے ہوش، ہسپتال منتقل

درخواست گزار کے مطابق نجی فریقین نے میرپور کے علاقہ بنڈرال ٹاؤن، سیکٹر ایف تھری، پارٹ فور میں واقع رہائشی پلاٹ نمبر 281-B پر ایک نجی اسکول قائم کر رکھا تھا۔

جو ان کے رہائشی مکان نمبر 281-A کے ساتھ واقع ہے۔عدالت عالیہ کے فیصلے کی نقول متعلقہ سرکاری محکموں اور حکام کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔