اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے سوشل میڈیا پر اپنے سسٹم ہیک ہونے کی خبروں کی تردید کردی ہے ۔
شہریوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیلئے دستیاب ہونے کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے من گھڑت اور جھوٹا قرار دے دیا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق وائرل ہونے والی سوشل میڈیا پوسٹ میں خود ہی اعتراف کیا گیا ہے کہ ڈیٹا چوری کا یہ دعویٰ غیر تصدیق شدہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر : مری ایکسپریس وے کو مظفرآباد تک توسیع دینے کا اصولی فیصلہ
انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی شناختی کارڈز اور بائیومیٹرک معلومات کی نمونہ تصاویر نادرا کے ڈیٹا فارمیٹ سے بالکل مختلف ہیں۔
یہ تصاویر ماضی میں بھی کئی بار مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جا چکی ہیں۔
بالکل اسی نوعیت کا جھوٹا دعویٰ سال 2024 میں بھی سامنے آیا تھا۔
موجودہ اور ماضی کے دعووں پر نادرا نے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سیکیورٹی بورڈ کے ساتھ مل کر تفصیلی تکنیکی تحقیقات کیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:طاہر ایوب لون کا ٹی ایل پی پلیٹ فارم سے الیکشن نہ لڑنے کا اعلان
سکیورٹی اداروں کو نادرا کے سسٹم میں کسی بھی قسم کی نقب زنی یا شہریوں کے ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔۔
نادرا کا سسٹم بالکل محفوظ ہے اور ہیکنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ نادرا ترجمان کے مطابق شہریوں کا کوئی بھی ڈیٹا چوری یا ضائع نہیں ہوا۔
نادرا ترجمان کے مطابق معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھا گیا ہے چونکہ کوئی سکیورٹی نقص یا سائبر حملہ ہوا ہی نہیں اس لئے کسی سکیورٹی آپریشن یا بحالی کی ضرورت نہیں ہے۔
نادرا سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سائبر سپیس کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ افواہیں پھیلانے والوں کا سراغ لگایا جا سکے۔



