صدر آزاد جموں و کشمیر نے عبوری آئین 1974 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے الیکشنز ایکٹ 2020 میں ترمیم کر کے “آزاد جموں و کشمیر الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2026” جاری کر دیا ہے، جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس نئے آرڈیننس کے جاری ہوتے ہی تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) پر آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہو گئی ہے، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بطور سیاسی جماعت مستقبل پر بھی شدید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس اہم ترین قانونی تبدیلی کے فوراً بعد، تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) میرپور کے ضلعی امیر نے پارٹی کارکنان کے لیے ایک اہم ترین ضابطہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت کارکنان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں پارٹی کی باقاعدہ رجسٹریشن ہونے تک ٹی ایل پی کے بینر تلے کسی بھی سیاسی سرگرمی یا انتخابی عمل کا حصہ بننے سے مکمل گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سردار تنویر الیاس کو بڑا جھٹکا؛ حلقہ وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر پی پی پی کے امیدوار نامزد
آرڈیننس کی تفصیلات اور ٹی ایل پی پر پابندی
حکومتِ آزاد کشمیر کے مطابق اس آرڈیننس کا مقصد انتخابی نظام کو مزید بہتر بنانا اور اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اسمبلی کا سیشن نہ ہونے کے باعث فوری آئینی ضرورت کے تحت جاری کیے گئے اس آرڈیننس کے مطابق، پاکستان میں جو بھی سیاسی جماعتیں کالعدم، تحلیل یا ممنوعہ قرار دی جا چکی ہیں، ان کی آزاد کشمیر میں موجود برانچز، ذیلی تنظیمیں یا نمائندہ یونٹس بھی خودبخود ممنوعہ تصور کیے جائیں گے۔ چونکہ پاکستان کی حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اس لیے یہ آرڈیننس براہِ راست ٹی ایل پی پر اثر انداز ہوا ہے۔
اس حوالے سے ضلعی امیر ٹی ایل پی میرپور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ ہدایت رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے اور متعلقہ پابندیاں ہٹنے تک برقرار رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ تحریکِ لبیک پاکستان ریاستی اداروں اور حکومت کے فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور ان کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔ آزاد کشمیر میں پارٹی کی باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد تمام سیاسی و تنظیمی سرگرمیاں قانون کے مطابق دوبارہ شروع کی جائیں گی۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا مستقبل داؤ پر
اس نئے آرڈیننس کے باعث پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا مستقبل بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کا کیس اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر میں بھی پارٹی رجسٹریشن کا کیس چل رہا ہے۔ اگر پاکستان میں پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی منفی فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس آرڈیننس کے تحت آزاد کشمیر میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: “مسترد ہو بھی جاتے تو الیکشن ضرور جیتتے”کاغذات کی منظوری کے بعد چوہدری لطیف اکبر کا دبنگ اعلان
مہاجرین کے لیے ووٹنگ کے طریقہ کار میں بڑی سہولت
آرڈیننس میں جہاں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کروائے گئے ہیں، وہیں 1989 کے مہاجرین کے لیے ووٹ ڈالنے کے عمل کو انتہائی آسان اور بہتر بنا دیا گیا ہے۔ نئی ترمیم کے تحت ایسے مہاجرین جنہوں نے ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ یا آزاد کشمیر کے اندر کسی دوسری جگہ رہائش منتقل کر لی ہے، انہیں اپنی نئی رہائش گاہ پر ووٹ رجسٹر کرانے اور حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی مکمل اجازت ہو گی۔
الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کی سہولت کے لیے ضروری طریقہ کار اور انتظامات وضع کرے اور اس شق پر عملدرآمد کے لیے ضمنی یا اپڈیٹڈ انتخابی فہرستیں تیار کرے تاکہ کسی بھی ووٹر کا حق متاثر نہ ہو۔ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر اس آرڈیننس پر فوری عملدرآمد کرنے کا پابند ہوگا۔




