آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی میدان سے ایک اور بہت بڑی اور اہم ترین سیاسی خبر سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حلقہ وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر کو باقاعدہ طور پر اپنا انتخابی ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ٹکٹ کی اس منظوری کے بعد حلقہ وسطی باغ کے انتخابی معرکے میں تیزی آ گئی ہے۔
یاد رہے کہ حلقہ وسطی باغ کا یہ انتخابی ٹکٹ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس حاصل کرنا چاہتے تھے اور ان کی جانب سے اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی تھیں، تاہم پارٹی نے سردار ضیاء القمر پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سردار تنویر الیاس کی خواہش اور پیپلز پارٹی کا حتمی فیصلہ
حلقہ وسطی باغ کی سیاسی گہما گہمی میں یہ بحث کافی عرصے سے زبان زدِ عام تھی کہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس اس حلقے سے انتخابی دنگل میں اترنے کے لیے ٹکٹ لینے کے شدید خواہش مند تھے۔ ان کے حامیوں کی جانب سے بھی اس سلسلے میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری تھا، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے تمام تر سیاسی صورتحال اور حلقے کے سیاسی ماحول کا جائزہ لینے کے بعد سردار ضیاء القمر کو ٹکٹ دینے کا حتمی فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، تنویر الیاس کی پیپلزپارٹی قیادت کو وارننگ
اس اہم فیصلے کے بعد سردار ضیاء القمر اب حلقہ وسطی باغ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے باقاعدہ اور مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ چکے ہیں، جس سے ان کے دھڑے اور حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سردار تنویر الیاس اور پی پی پی قیادت میں اختلافات: الوداعی تصویر سامنے آ گئی
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ٹکٹ کے معاملے پر اختلافات ختم نہیں ہو سکے اور وہ حلقہ وسطی باغ کے ٹکٹ پر ڈٹ گئے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر، پی پی رہنما چوہدری ریاض اور سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان کی جانب سے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی مصالحتی کوششیں بھی تنویر الیاس کو فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہ کر سکیں۔ سردار تنویر الیاس کی دلچسپی وسطی باغ اور پاچھیوٹ سے انتخاب لڑنے میں تھی لیکن پارٹی قیادت، خاص کر بلاول بھٹو زرداری نے وسطی باغ سے ٹکٹ دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ سردار ضیاء القمر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق جب سردار تنویر الیاس کو اپر نیلم سے انتخاب لڑنے کی تجویز دی گئی تو وہ سخت ناراض ہو گئے۔
ایک ہفتے کے دوران سردار تنویر الیاس سے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، چوہدری ریاض، سردار یعقوب خان اور دیگر رہنماؤں کی متعدد ملاقاتوں میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ چوہدری ریاض نے انہیں فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی پیشکش کی تاہم انہوں نے دونوں ملاقاتوں سے معذرت کر لی۔ اسی دوران سردار تنویر الیاس نے اپنے اسٹاف اور سیاسی ساتھیوں کے ہمراہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ایک تصویر بنوائی جسے اب سیاسی حلقوں میں ‘الوداعی تصویر’ قرار دیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست دینا اب میری پہلی ترجیح ہے: تنویر الیاس
سردار تنویر الیاس نے چوہدری ریاض پر واضح کیا کہ چوہدری انوارالحق کی حکومت انہوں نے ختم کرائی تھی اور پیپلز پارٹی کی حکومت اور فیصل راٹھور کو وزیراعظم انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ انہوں نے دبنگ سیاسی موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اب فیصل ممتاز راٹھور، سردار قمر الزمان اور سردار ضیاء القمر کو اس کے سیاسی نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حویلی کہوٹہ، وسطی اور شرقی اصل سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو شکست دینا اب میری پہلی ترجیح ہو گی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کرنے کے بعد سردار تنویر الیاس نے اپنی سابقہ جماعت استحکام پاکستان پارٹی (IPP) کی مرکزی قیادت سے رابطے تیز کر دیے ہیں، جہاں انہیں دوبارہ جماعت کی قیادت سنبھالنے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ناراض رہنماؤں کو ساتھ لانے کے حوالے سے مثبت یقین دہانیاں مل چکی ہیں۔ وہ جلد ہی استحکام پاکستان پارٹی کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کر کے اپنی نئی سیاسی حکمتِ عملی اور آئندہ انتخابات سے متعلق فیصلوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔




