آزاد کشمیر کے خوبصورت شہر راولا کوٹ سمیت مختلف اضلاع اور شہروں میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہو گئے ہیں، جہاں تمام اہم بازار، تجارتی مراکز اور دکانیں حسبِ روایت کھلی ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، شہر بھر کی تجارتی فضا میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور کاروباری سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
راولا کوٹ شہر کے تمام مرکزی بازاروں اور شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔ شہر کے رونق افروز بازار اور متحرک شہری سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوامی زندگی اپنے اصل رنگ میں لوٹ آئی ہے۔ مقامی آبادی پرامن اور سازگار ماحول پر انتہائی مطمئن ہے اور شہری بغیر کسی خوف و خطر یا رکاوٹ کے اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب، آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بازار کھولنے کے اعلان کے بعد جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 9 جون سے جموں کشمیر عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال جاری تھی، جس کے باعث کئی روز تک کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں متاثر رہیں۔ بعد ازاں، 27 جون کو مرکزی انجمن تاجران اور ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر بازار کھولنے اور ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت مظفرآباد میں ٹرانسپورٹ سروسز بحال، نیو بس اسٹینڈ کھل گیا
مختلف مارکیٹوں کی صورتحال اور کاروباری سرگرمیاں:
مظفر آباد کے مرکزی تجارتی علاقے خواجہ بازار اور مین بازار، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیا فروخت کی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر کھل چکے ہیں جبکہ چند دکانیں اب بھی بند ہیں۔ مدینہ مارکیٹ، جہاں گارمنٹس، ریڈی میڈ ملبوسات اور کاسمیٹکس کی دکانیں ہیں، وہاں محدود کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور تقریباً 30 فیصد دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس، سی ایم ایچ روڈ پر واقع میڈیکل مارکیٹ، جس میں میڈیکل اسٹورز، لیباریٹریاں اور کلینکس شامل ہیں، وہ مکمل طور پر کھل چکی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔
ٹرانسپورٹ کی بحالی اور پیٹرول کا بحران:
مظفرآباد کے مرکزی لاری اڈے پر تمام ٹرانسپورٹ اڈے دوبارہ فعال ہو گئے ہیں اور مختلف روٹس پر مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ لاری اڈے سے ملحقہ بیشتر دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔ دوسری جانب شہر کے تمام پیٹرول پمپ بدستور بند ہیں، جس پر ٹرانسپورٹرز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ تو بحال کر دی گئی ہے لیکن ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث گاڑیاں چلانا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔
تاجر رہنما اور انتظامیہ کا مؤقف:
مرکزی انجمن تاجران کے سینیئر وائس چیئرمین گوہر کشمیری کا کہنا ہے کہ انجمن کے اعلان کے بعد بازار کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ تاہم ان کے بقول، انٹرنیٹ کی بندش کے باعث متعدد دکانداروں کو بازار کھولنے کے فیصلے کی بر وقت اطلاع نہیں مل سکی۔ اس کے علاوہ پیٹرول پمپ بند ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جو ابھی تک دکانیں کھولنے کے لیے نہیں پہنچ سکے۔ دوسری طرف، ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے بتایا کہ 70 فیصد بازار کھل چکے ہیں اور ٹریفک بحال ہو چکی ہے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور انٹرنیٹ کا مسئلہ بھی جلد حل کر دیا جائے گا۔




