پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشت گرد کے ہوشربا انکشافات

کراچی میں رینجرز کیمپ پرحملے میں ملوث کالعدم جماعت الاحرار کے پس پردہ افغان طالبان رجیم کے رابطے کے شواہد سامنے آگئے ہیں۔

میرا نام عثمان علی ہے، افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا ہوں، رینجرز تنصیب پر حملے میں ملوث دہشتگرد نے ہوشربا انکشافات کردئیے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی؛ فتنہ الخوارج کے 26 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد ہلاک

گرفتار دہشت گرد عثمان نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ میرا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے ہے، ہم سب کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی، مجھے صرف جیکٹ دی گئی تھی، افغانستان میں تربیت اور خود کش جیکٹ عمر قاری نے دی۔

مجھے صرف تربیت دی گئی، خود کش ہم خود تیار کر لیتے ہیں، ہمیں زیر تعمیر بلڈنگ میں رکھا گیا تھا، ہمیں پہلے فوج اور رینجرز میں فرق معلوم نہیں تھا، یہاں آکر رینجرز سے واقف ہوئے، عبدالہادی یہاں سب جانتا تھا وہ پہلے بھی یہاں آچکا ہے،میرے تین اور ساتھی بھی تھے جن کا نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہداء کی قربانیاں مقدس امانت ہیں، پائیدار امن تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل

گرفتار دہشتگرد نے مزید کہا کہ ہمیں افغانستان میں تربیت دی گئی تھی ،میرے ساتھ آنے والا عبدالہادی مارا جا چکا ہے ، دہشت گرد جانان نے رینجرز کے کیمپ پر بم پھینکا،حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیر ستان سے لایا تھا ۔